مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 13
اطمینان وادی کہ از روئے انصاف اسکی عبد الحقوق محفوظ ہیں۔یہ بات اگر حاصل ہوگئی تو ایک یونٹ بھی مفید ہو گا اور دس یونٹ بھی رہیں تو نقصان دہ ثابت نہ ہو سکیں گے۔ورنہ مصنوعی طور پر وحدت پیدا کرنے کی کوششوں کا اچھا نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکتا ہے۔ہم حیران ہیں کہ اگر یہ وصدرت مغربی پاکستان کی مخالفت نہیںتو مخالفت کے کہتے ہیں؟ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اول تو یہ سکہ کوئی حقیقی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔مولوی صاحب کے حد سے بڑھا ہوا تکبر انا ، اور نفس پرستی ہی ایسی بات اُن کے منہ سے نکلوا سکتے ہیں ورنہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ کم اب کم اسوقت ملک بالخصوص مغربی پاکستان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے لیگ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ کی تو کوئی حقیقی اہمیت ہی نہیں حقیقی اہمیت نائب قربانی کی کھانوں کے مسلک کو حاصل تھی جو اس کیلئے اس کا دروازہ کم کھانا بھی ضروری بھا گیا۔پھر یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ایک یونٹ اور دس یونٹ میں کوئی فرق نہیں ایک یونٹ بن گی تو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا اور دس یونٹ بن گئے تو کوئی خاص نقصان نہیں ہو گا لیتی ایک طرف یہ کہ صحیح اسلامی نظام یہ دوسری طرف یہ کہ ایک یونٹ سے رکوئی اور فائدہ نہ سہی ، اسلامی نظام کے نظریہ کو تقویت حاصل نہیں ہوگی اور سندھی پٹھان، بلوچی، بہاولپوری اخیر و یر ی اور قبائلی اس قومیتوں کو مان کر انکی بنیاد پر دس یونٹ بنائیے جائیں تو کوئی اور نقصان نہ سہی ، اسلامی نظام کے نظریہ کوبھی کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ایک ہی سانس ہے۔یہاں اخبار میں عبارت اڑگئی ہے (ناقل)