مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت

by Other Authors

Page 10 of 16

مولانا مودودی کی سیاسی شخصیت — Page 10

نہیں تھا بلکہ اُن کی پاکستان دشمن پر مبنی تھا۔مولانا کو پاکستان سے کر یہ تھی کہ اس ملک کے بانی ہونے کا سہرہ قائد اعظم کے سرکیوں ہے ؟ میرے سرکیوں نہیں؟ حالانکہ یہ سہرہ ان کے سر نہیں باندھا جا سکتا تھا کیو نکہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی نے نہ صرف تحریک پاکستان میں کوئی کام نہیں کیا تھا بلکہ اس کی مخالفت کی تھی اور جماعت اسلامی کے میرٹ کو یہ حکم دیا تھا کہ پاکستان کی بنیاد پر ہونے والے عام انتخابات میں غیر جانبدار رہیں۔یعنی پاکستان کے حق میں وٹ نہ دیں۔اس انتخاب میں پاکستان کے بھی میں ووٹ نہ دینے کا مطلب پاکستان کے خلاف ووٹ دنیا تھا۔ہم الزام لگاتے ہیں کہ قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے خلاف مولانا مودودی کا بخض آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ہم الزام لگاتے ہیں کہ مولانا کی تحریک ہر گنہ ایک اسلامی اور دینی تحریک نہیں۔وہ حسن بن صباح کی طرح سیاسی ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں اور اُن کا مقصد دین کی سربلندی کی بجائے سیاسی اقتدار کا حصول ہے۔ہم مولانا مودودی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ مولانا احمد علی اور مولا نا میکش کی طرح ہمارے خلاف بھی ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ چلائیں اور عدالت میں ان الزامات کی صفائی پیش کریں۔د نوائے وقت لاہور ولائل پور ۱۵ جولائی ۹۵۵ مت)