مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 632

مسیحی انفاس — Page 79

29 دیکھو انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کر سکتا ہے نہ یہ کہ وہ خدا بھی بن سکتا ہے۔جب انسان خدا بن ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت جس انسان کو انسانی نمونے کی ضرورت ہے نہ کہ سے انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔انسان کے واسطے ایک انسانی نمونے کی ضرورت ہے جو عالی موت ہی کیا ہے کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کی طرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیں نہ کہ خدائی نمونہ کی جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالاتر ہے۔ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشاء انسانوں کو خدا بنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجا تھا۔پھر یہ اور بھی عجیب بات ہے کہ خدا ہو کر پھر یہود کے ہاتھ سے اتنی ذلت اٹھائی اور رسوا ہوا اور ان پر غالب نہ آسکا بلکہ مغلوب ہو گیا۔ملفوظات۔جلد ۱۰ صفحه ۲۱۷ پیش گوئیوں کا یہ حال ہے کہ ایسی پیش گوئیاں ہر مدیتر شخص تو در کنار عام لوگ بھی کر سکتے ہیں کہ لڑائیاں ہوں گی۔قحط پڑیں گے۔مرغ بانگ دے گا۔ان پیش گوئیوں پر نظر کرو تو بے اختیا ہنسی آتی ہے ان کو یہودی خدائی کا ثبوت کب تسلیم کرتے مسیح کی پیش گوئیوں کا حالی اور اس کی الوہیت تھے۔خدائی کے لئے تو وہ جبروت اور جلال چاہئے جو خدا کے حسب حال ہے۔لیکن کی تردید " یسوع اپنی عاجزی اور ناتوانی میں ضرب المثل ہے یہاں تک کہ ہوائی پرندوں اور لومڑیوں سے بھی ادنی درجہ پر اپنے آپ کو رکھتا ہے۔اب کوئی بتائے کہ کس بناء پر اس کی خدائی تسلیم کی جاوے۔کس کس بات کو پیش کیا جاوے۔ایک صلیب ہی ایسی چیز ہے جو ساری خدائی اور نبوت پر پانی پھیر دیتی ہے کہ جب مصلوب ہو کر ملعون ہو گیا تو کاذب ہونے میں کیا باقی رہا۔یہودی مجبور تھے۔ان کی کتابوں میں کاذب کا یہ نشان تھا۔اب وہ صادق کیونکر تسلیم کرتے؟ جو خود خدا سے دور ہو گیا وہ اوروں کے گناہ کیا اٹھائے گا۔عیسائیوں کی اس خوش اعتقادی پر سخت افسوس آتا ہے کہ جب دل ہی ناپاک ہو گیا تو اور کیا باقی رہا۔وہ دوسروں کو کیا بچائے گا۔اگر کچھ بھی شرم ہوتی اور عقل و فکر سے کام لیتے تو مصلوب اور ملعون کے عقیدے کو پیش کرتے ہوئے یسوع کی خدائی کا اقرار کرنے سے ان کو موت آجاتی۔اب کسر صلیب کے سامان کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اور عیسائی مذہب کا باطل ہونا ایک بدیہی مسئلہ ہو گیا ہے۔جس طرح پر چور پکڑا جاتا ہے۔تو اول اول وہ کوئی اقرار نہیں کرتا اور پتہ نہیں دیتا مگر جب پولیس کی تفتیش کامل ہو جاتی ہے تو