مسیحی انفاس — Page 78
فقرے ہیں۔ہے فرمایا۔سمع التقوله - یعنی تقدیر تو بڑی سخت بھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کے تقویٰ کی وجہ سے آخر کار اس کی دعا ضائع نہ کی گئی بلکہ سنی گئی۔یہ عیسائی بد نصیب اس امر کی طرف تو خیال نہیں کرتے کہ اول تو خدا اور اس کا مرنا یہ دونوں خدا اور مو رو متضاد فقرے آپس میں کیسے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں۔جب ایک کان میں یہ آواز پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایس یہ کیا لفظ ہیں ؟ اور پھر ماسوا اس کے ایک ایسے شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے بخیال ان کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت ایک لغو اور بیہودہ کام میں جو اس کے آقا اور مولیٰ کی منشاء اور رضا کے خلاف تھا خواہ نخواہ ضائع کیا اور پھر ساری رات رویا اور ایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سنی گئی۔واہ اچھا خدا تھا! ЧА پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی روح انسانی تھی نہ روح الوہیت۔ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی روح اگر انسانی تھی تو اس وقت ان کی الوہیت کی روح کہاں تھی؟ کیا وہ آرام کرتی تھی اور خواب غفلت میں غرق نوم تھی۔خود بیچارے نے بڑے درد اور رقت کے ساتھ چلا چلا کر دعا کی۔حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی۔وہاں ایک بھی نہ سنی گئی۔آخر کار خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملک عدم کو پہنچے۔کیسے قابل شرم اور افسوس ہیں ایسے خیالات۔ملفوظات۔جلد ۵ صفحه ۳۳۵،۳۳۴ حضرت عیسی کو بھی ہم اور انبیاء کی طرح خدا تعالیٰ کا ایک نبی یقین کرتے ہیں۔ہم مانتے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں صدق اور اخلاص رکھنے والے لوگ خدا تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے اور مخلص بندوں کے حق میں بباعث ان کے کمل صدق اور محبت کے بیٹے کا لفظ بولا ہے۔اس طرح سے حضرت عیسی بھی انہی کی ذیل میں ہیں۔حضرت عیسی میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ تھی جو اور نبیوں میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان میں کوئی ایسی نئی بات پائی جاتی ہے جس سے دوسرے محروم رہے ہوں۔اگر حضرت عیسی میں مردے زندہ کرنے کی طاقت تھی تو اب بھی ان کا پیرو مردے زندہ کر کے دکھائے مردے زندہ کرنے تو در کنار بلکہ ہمارے مقابلہ میں کوئی نشان ہی دکھا دیوے۔