مسیحی انفاس — Page 72
i J ۶۴ هذه يد الله ، وقال بعضهم : انا وجه الله الذي وجهتم إليه ، وانا جنب الله نکل گئیں اور بعض واردات ان پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بیہوشوں کی طرح ہو گئے سو بعض نے اس مستی کی حالت میں الذي فرطتم فيه۔وقال بعضهم: انا اقول وانا اسمع فهل في الدار غيرى ، وقال کہا کہ میرے جبہ میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی بعضهم : انا الحق۔فهؤلاء كلهم معفوون ، فانهم نطقوا من غلبة كمال المحوية طرف تم نے منہ کیا اور میں ہی جنب اللہ ہوں جس کے حق میں تم نے تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی سنتا ہوں اور والانكسار لا من الرعونة والاستكبار ، وحفت بهم سكر صهباء العشق وجذبات میرے سوالور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ کمال محویت سے بولے ہیں نہ الحب المختار، فخرجت هذه الاصوات من خوخة الفناء لا من غرفة الخيلاء۔رعونت اور تکبیر سے اور شراب عشق کے نشہ اور دوست بر گزیدہ کے جذبات نے ان کو گھیر لیا سویہ آواز میں فٹ کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے وما نقلوا الاقدام الى دون الله ، بل فنوا في حضرة الكبرياء، فلا شك انهم غير بلاخانے سے اور دون اللہ کی طرف انہوں نے قدم نہیں اٹھایا بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہو گئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان کلمات سے کوئی ملومين ولا يجوز اتباع كلماتهم وحرص مضاهاتهم، بل هي يجب ان تطوى ملامت نہیں۔اور ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ ان کی مشاہمت کی خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کھلے ہیں کہ لینے لا ان تروى۔ولا يؤاخذ الله الا الذين كانوا من المتعمدين المجترئين۔کے لائق ہیں نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ کرتا ہے جو عماً چالاکی سے ایسے کلمے منہ پر لاویں۔نور الحق، الجزء الاول المجلد ۸ ص۔۔ای ۱۰۱) مسیح کے آیتہ اللہ ہونے میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ آیۃ اللہ ہی ہوتا ہے۔براہین احمدیہ میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے مسیح آیتہ اللہ تھا۔ولنجعلك آية رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم بھی آیت تھے۔مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں۔عزیر بھی آیۃ اللہ تھے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۳۷۸ واعجبنى طريق المعترض الفتان انه لا يمتنع من الهذيان، ويهذي كمثل