مسیحی انفاس — Page 54
سوم ۵ حضرت مسیح سے ایسے بڑھے کہ بموجب آپ کی کتابوں کے ہڈیوں کے چھونے سے مردے زندہ ہو گئے اور مسیح کے معجزات پراگندگی میں پڑے ہیں کیونکہ وہ تالاب جس کا یوحنا باب میں ذکر ہے۔حضرت مسیح کے تمام معجزات کی رونق کھوتا ہے۔اور پیش گوئیوں کا تو آگے ہی بہت نرم اور پہلا حال ہے اور پھر کس عملی اور فعلی فضیلت کی رو سے حضرت مسیح کا افضل ہونا ثابت ہوا۔اگر وہ ضمناً افضل ہوتے تو حضرت یوحنا بجو خدا کے کسی اور سے اصطباغ ہی کیوں پاتے۔اس کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار ہی کیوں کرتے اور انسان کو سجدہ مت نیک ہونے سے کیوں انکار کرتے۔اگر الوہیت ہوتی تو شیطان کو یہ کیوں جواب دیتے کہ لکھا ہے بجز خدا کے کسی اور کو سجدہ مت کر۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۱ عیسائی صاحبان اس کوشش میں ہیں کہ مخلوق پرستی میں نہ صرف آپ بلکہ تمام دنیا کو داخل کر دیں محض زبر دستی اور تحکم کے طور پر حضرت مسیح کو خدا بنایا جاتا ہے۔ان میں کوئی بھی ایسی خاص طاقت ثابت نہیں ہوئی جو دوسرے نبیوں میں پائی نہ جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں ان سے بڑھ کر تھے اور ان کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے۔انہوں نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعوی نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں اور جس قدر ان کے کلمات ہیں جن سے ان کی خدائی سمجھی جاتی ہے آپ میں کوئی بھی ایک ایسا سمجھنا غلطی ہے۔اس رنگ کے ہزاروں کلمات اللہ خدا کے نبیوں کے حق میں بطور ایسی خاص حالت ثابت استعارہ اور مجاز کے ہوتے ہیں ان سے خدائی نکالنا کسی عظمند کا کام نہیں بلکہ انہیں کا کام نہیں ہوتی جو دوسرے میں اور انبیاء میں پائی کی ہے جو خوانخواہ انسان کو خدا بنانے کا شوق رکھتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میری وحی اور الہام میں ان سے بڑھ کر کلمات ہیں۔پس اگر ان کلمات سے جائے۔حضرت مسیح کی خدائی ثابت ہوتی ہے تو پھر مجھے بھی (نعوذ باللہ ) حق حاصل ہے کہ یہی دعوی میں بھی کروں۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۳۵ اتخذوا العبد العاجز إلها، ونحتوا ،ابنا وابا ورَسوا على خزعبلاتهم امثال اور ایک عاجز بندہ کو انہوں نے خدا ٹھہرایا اور اپنی طرف سے باپ اور بیٹا تراش لیا اور اپنی باطل باتوں پر پہاڑوں اور ٹیلوں کی طرح استی کام