مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 632

مسیحی انفاس — Page 42

۴۲ ۲۹ آزمائش کر سکتا ہے۔نمونہ دکھائے گا جس کے حکم سے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان سے باہر نہیں اور جس کا جلال دکھانے کے لئے سورج چمکتا اور زمین طرح طرح کے پھول نکالتی ہے۔آریہ دھرم - روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۸۲ ۸۳ عیسی نے ایک وقت میں تو یہ کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور دوسرے وقت بقول کیا شیطان خدا کی بھی عیسائیوں کے شیطان کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا۔اگر اس میں حقیقی روشنی ہوتی تو یہ ابتلا اس کو پیش نہ آتا۔کیا شیطان خدا کی بھی آزمائش کر سکتا ہے۔پس چونکہ عیسی انسان تھا اس لئے انسانی آزمائشیں اس کو پیش آئیں۔اور عیسیٰ کی دعاؤں میں بھی کوئی اقتدار نہ تھا صرف انسان کی طرح جناب الہی میں عجز و نیاز تھا۔یہی وجہ ہے کہ باغ والی دعا میں اس قدر آزمائشیں انسان کو آتی وہ رویا کہ اس کے کپڑے آنسووں سے بھر گئے مگر باوجود اس کے عیسائی کہتے ہیں کہ پھر بھی وہ دعا قبول نہ ہوئی۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ قبول ہو گئی اور خدا نے اس کو صلیب سے بچالیا اور صرف یونس کی طرح قبر میں داخل ہوا اور یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوا اور زنده ہی نکلا۔اس کا رونا اور اس کی روح کا گداز ہونا موت کے قائم مقام تھا۔ایسی دعائیں قبول ہوتی ہیں جیسی مریم کے بیٹے نے باغ میں کی ہے۔ہیں۔- حقیقة الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۸۷ عیسائی مذہب ایک ایسا خدا پیش کرتا ہے جو مخلوق اور کمزور اور عاجز ہے جو یہودیوں حضرت مسیح دوسرے کے ہاتھ سے طرح طرح کے دکھ اٹھاتا رہا اور ایک گھنٹہ میں گرفتار ہو کر حوالات میں کیا گیا مشرکوں کے مصنوعی خداوں کی طرح ہیں۔اور پھر آخر عیسائیوں کے عقیدہ کے موافق مصلوب ہوا۔ایسا خدادوسرے مشرکوں کے ہی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے سولی دئے جانے کی نسبت کوئی خواب دیکھی ہوگی اس لئے ان کے دل میں یہ خوف دامن گیر ہوا کہ اگر میں سولی دیا گیا تو شریر یہودی لعنتی ہونے کی تہمت میرے پر لگائیں گے پس اسی وجہ سے انہوں نے جان توڑ کر دعاکی اور وہ دعا قبول ہو گئی اور خدا نے اس تقدیر کو اس طرح بدل دیا کہ بگفتن سولی پر چڑہائے گئے۔قبر میں بھی داخل کئے گئے مگر یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔نبی بہادر ہوتے ہیں ذلیل یہودیوں کا ان کو خوف نہ تھا۔