مسیحی انفاس — Page 579
05 بحر حکمت ہے وہ کلام تمام ہے جام جس کا ہے نام قادر اکبر قادر اکبر اس کی ہستی کی دی ہے پختہ خبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے سینہ کو خوب صاف کرتا ہے اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو۔اور اک جاں تو چکا ہے نیر اکبر اس سے انکار ہو سکے کیونکر وہ ہمیں دلستاں تلک لایا اس کے پانے سے یار کو پایا! عشق حق کا پلا رہا ہے یاد سے ساری خلق جاتی ہے سینہ میں نقش حق جماتی ہے دل سے غیر خدا اٹھاتی ہے درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک ہے خدا سے خدا نما وہی ایک ہم نے پایا خوری برای وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دلربا وہی ایک اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں؟ بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورتِ جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان ہی بات جب اس کی یاد آتی ہی یوں ہی امتحان ہی براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول خور بمعنی روشنی یا مینار ۵۷۹