مسیحی انفاس — Page 568
سے پہلے آئے تمثیلی طور پر قرب کے دوئم درجہ کا اشارہ کر کے بیٹے کے لفظ سے اپنے اس مقام قرب کو ظاہر فرمایا ہے۔اور پھر تیسرا درجہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت ہے وہ شخص قرار دیا جو بیٹے کے مارے جانے کے بعد آئے گا جو باغ کا ملک اور نوکروں کا آقا اور اس بیٹے کا باپ مجازی طور پر ہے یہ بات نہایت صاف طور پر ظاہر ہے کہ جس طرح نوکروں کے آنے اور بیٹے کے آنے سے مراد وہ نبی تھے جو وقتا فوقتا آتے گئے اسی طرح اس تمثیل میں مالک باغ کے آنے سے بھی مراد ایک بڑا نبی ہے جو نوکروں اور بیٹے سے بڑھ کر ہے جس پر تیسرا درجہ قرب کا ختم ہوتا ہے وہ کون ہے ؟ وہی نبی ہے جس کا اسی انجیل متی میں فرقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے۔یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ مسیح جیسا ایک نبی قرب کے تینوں درجوں کے بیان کرنے میں صرف دو ٹکڑے اس میں سے بیان کر کے رہ جائے اور تیسرے ٹکڑہ کے مصداق کی طرف کچھ بھی اشارہ نہ کرے۔بے شک ہر یک عاقل اس پیش گوئی پر غور کر کے یہ یقین کامل سمجھ لے گا پہلے ہر کہ یہ تین تمثیلیں تینوں قسم کے نبیوں کی طرف اشارات ہیں اور خود تین قسم کا قرب سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔دیکھو صفحہ دہم سطر چهارم ترجمہ قرآن شریف جارج سیل صاحب پھر صفحہ ۵۸ سطر ۲۴۔اسی ترجمہ میں جارج سیل صاحب اپنے عیسائی تعصب کے جوش سے یہ بے دلیل اور مہمل رائے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط (جس کا ترجمہ محمد ہے ) مسلمانوں نے داخل کر دیا ہو گا مگر یقین کیا جاتا کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہیں۔یعنی مسلمانوں نے اس میں صرف اس قدر جعل کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیش گوئی بتصریح نام اس میں لکھ دی ہے اور جعل یہ اس لئے ٹھرا کہ یہ پیش گوئی صریح صریح اس میں موجود ہے جس کا ماننا حضرات عیسائیوں کو کسی طرح سے منظور ہی نہیں اور لطف یہ کہ آپ ہی اقراری ہیں کہ اس پیش گوئی کو پڑھ کر بڑے بڑے نیک بخت اور فاضل راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں۔فتد تر۔منہ حاشیه در حاشیه متعلق صفحه ۲۴۰ سرمه چشم آریه ۵۶۸