مسیحی انفاس — Page 566
ں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضرت تہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کے کتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سویا ہوا تھا اس انجیل کو پاکر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مراد ہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی محمد رسول اللہ علیہ وسلم کھلا کھلا لکھا ہوا دیکھ کر مسلمان ہو گیا پس اس فاضل انگریز کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہ کتاب یویوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کر کے عزت کے ساتھ رکھی جائی تھی تبھی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمان ہوتے تھے۔پادری صاحبوں نے مدت تک اپنی کتابوں میں جو ہندوستان میں آکر اردو میں تالیف کیں اس انجیل کا کسی کتاب میں تذکرہ نہیں کیا اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں سے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو گا کہ عیسائیوں کے پاس ان چار انجیلوں کے علاوہ پانچویں انجیل بھی ہے جس کو پڑھ کر بڑے بڑے فاضل اور خدا ترس راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں۔لیکن اب پادری صاحبوں نے اس قدر اپنے منہ سے اقرار کرنا شروع اس انگریز کا نام جارج سیل صاحب ہے جوا کا بر علما عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جو ان کی طرف سے شائع ہو کر مطبع لنڈن فریڈرک دارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیباچہ میں مولف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل برنباس پڑھ کر اور اس میں پیش گوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پاکر مسلمان ہو گیا تھا اس طور سے (جو نیچے لکھا جاتا ہے ) بیان کیا ہے۔فرا میرینو جو ایک عیسائی مانگ یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھے کو ایک تحریر آبرنس صاحب کی ( جو ایک فاضل مسحوں میں سے ہے) منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے بر خلاف ہے نظر سے گذری اس تحریر میں آبرنس صاحب ( جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں ) اپنے بیان کی صداقت کی بابت ۵۶۶