مسیحی انفاس — Page 554
۵۵۴ کی گنجائش نہ رہے۔ان دونوں بیانوں کا ایک جاذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں۔اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو اس کی شان کے برخلاف ہے۔البدر - جلد ۲ نمبر ۱۶۔مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۲ - وہ (سیح علیہ السّلام ) بن باپ پیدا ہوئے اس کا زبر دست ثبوت یہ ہے کہ بیٹی اور عیسی کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے۔پہلے بجلی کا ذکر کیا۔جو بانجھ سے پیدا مزید تفصیل ہوئے۔دوسرا قصہ مسیح کا اس کے بعد بیان فرمایا۔جو اس سے ترقی پر ہونا چاہئے تھا۔اور وہ یہی ہے کہ وہ بن باپ ہوئے۔اور یہی امر خارق عادت ہے۔اگر بانجھے سے پیدا ہونے والے) بچی کے بعد باپ سے پیدا ہونے والے کا ذکر ہوتا تو اس میں خارق عادت کی کیا بات ہوئی۔الحکم- جلد نمبر ۴۲۔مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲۱ قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے اور قرآن شریف پر ہم ایمان لاتے ہیں پھر قانونِ قدرت میں ہم اس کے بر خلاف ہم کوئی دلیل نہیں پاتے۔کیونکہ سینکڑوں قانون قدرت میں ہم اس کے بر خلاف کوئی کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں جو نہ باپ رکھتے ہیں اور نہ ماں۔قرآن شریف دلیل نہیں پاتے میں جہاں اس کا ذکر ہے وہاں خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دو عجائب نمونوں کا ذکر کیا ہے۔اول حضرت زکریا کا ذکر ہے کہ ایسی پیرانہ سالی میں جہاں کہ بیوی بھی بانجھ تھی۔خدا نے بیٹا پیدا کیا۔اور اس کے ساتھ ہی یہ دوسرا واقعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ایک اور قدرت عجیبہ کا نمونہ ہے اس کے ماننے میں کونسا ہرج پیدا ہوتا ہے۔قرآن مجید کے پڑھنے سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن باپ ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نے کمثل آدم جو فرمایا اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس میں ایک عجوبہ قدرت ہے جس کے واسطے آدم کی مثال کا ذکر کرنا پڑا۔بدر جلد نمبر ۲۰ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۰۷ ء صفحہ ۳ ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ