مسیحی انفاس — Page 537
۵۳۷ اقتداری ہی ی کہلائیں گے نہ اور کچھ۔کیونکہ جھوٹا خدا سے دعا نہیں کرتا اور نہ خدا سے کچھ میل رکھتا ہے۔سو اگر وہ کوئی نشان دکھلاوے تو اس میں کیا شک ہے کہ اپنے اقتدار سے ہی دکھلائے گا نہ خدا سے۔پس ایسے اقتداری نشانوں سے اگر خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو ایک کاذب کی خدائی یسوع کی خدائی سے باعتبار ثبوت کے اول درجہ پر ہے۔یسوع کے اقتداری نشانوں میں شبہ بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ راست باز تھا۔ممکن ہے کہ اس نے نشانوں کے دکھلانے میں خدا سے مدد پائی ہو لیکن کاذب کے اقتداری نشانوں میں اس شبہ کا ذرہ دخل نہیں کیونکہ وہ راست باز نہیں اور نہ خدا سے کچھ مدد پا سکتا ہے اور نہ خدا اس سے کچھ جوڑ اور تعلق رکھتا ہے پس اس مسیحی اصول کے موافق اگر کاذب بڑے بڑے نشان دکھلاوے تو نبوت کیا اس کی تو خدائی بھی نہایت صفائی سے ثابت ہو سکتی ہے۔نیچے نشانوں کے امکان صدور کے لئے مسیح کا سرٹیفکیٹ کافی ہے۔پھر ایک کذاب کے خدابن جانے میں کیا مشکلات ہیں میں حیران ہوں کہ عیسائی صاحبوں نے ان عبارتوں کو کیوں پیش کر دیا ان کو تو مخفی رکھنا چاہئے تھا۔اب تو وہی بات ہوئی کہ تبر خویش بر پائے خویش دوسرا جواب مجیب صاحب نے یہ دیا ہے کہ یسوع مسیح مردوں کو زندہ کرتا اور جذامیوں وغیرہ کو صاف کرتا تھا۔لیکن افسوس کہ صاحب راقم نے اس جواب کے وقت میرے اشتہار کے اس فقرہ کو نہیں پڑھا کہ قوت ثبوت میں موازنہ کیا جائے گا۔افسوس انہوں نے یہ کیسی جلدی کی کہ قصوں اور کہانیوں کو پیش کر دیا۔صاحبو! اسیح کا مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ امور یہ سب ایسے قصے ہیں کہ جن کو خود یورپ کے محقق بنظر استہزاء دیکھتے ہیں۔ان کا نام ثبوت رکھنا اگر سادہ لوحی نہ ہو تو اور کیا ہے۔اور اگر ثبوت اسی کو کہتے ہیں تو پھر دوسری قوموں کا کیا قصور ہے کہ ان کے خداؤں کو قبول نہیں کیا جاتا۔کیا ان کے دفتروں اور کتابوں میں اس قسم کے قصے بکثرت بھرے ہوئے نہیں ہیں؟ دنیا میں اکثر یہی فساد بہت پھیل رہا ہے کہ لوگ دعوی اور دلیل میں فرق نہیں کرتے کون اس بات کو نہیں جانتا کہ یہود جن کے لئے یسوع بھیجا گیا تھاوہ سب اس کے معجزات سے صاف منکر ہیں۔اب تک ان کی پرانی کتابوں سے لے کر آخری تالیفات تک میں یہی واویلا ہے کہ اس سے کوئی بھی معجزہ نہیں ہوا چنانچہ بعض تاریخی کتابیں ان کی میرے پاس بھی موجود ہیں۔پس کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جس قوم کو مردے زندہ کر کے