مسیحی انفاس — Page 533
۵۳۳ ارادہ الہی سے حقیقت میں پرندے بنا لیتے ہوں اور وہ پرندے ان کی اعجازی پھونک سے رواز کر جاتے ہوں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی کر ۔ تو اس کا اپنے اور شخص کو موت اور حیات اور ضر اور نفع کا مالک نہیں بنا تا ہی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔ غرض معجزہ کی حقیقت اور مرتبہ سے یہ امر بلا تر اور ان صفات خاصہ خدا تعالیٰ میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کو مل نہیں سکتیں۔ معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالی ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھ کر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کی عجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت و تقدیس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یا کار سازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔ اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہر گز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدا تعالی دائمی طور پر ایک شخص کو اجازت اور اذن دیدے کہ تو مٹی کے پرندے بنا کر پھونک پرایک مارا کر وہ حقیقت میں جانور بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت اور ہڈی اور خون اور تمام اعضاء جانوروں کے بن جائیں گے۔ ظاہر ہے کو اگر خدا تعالیٰ پرندوں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھر اسکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالت تامہ کا عہدہ بھی کسی کو تو دے سکتا ہے۔ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہونا جائز ہو گا گو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اور نیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فَتَشَابَهَ الخَلْقَ عَلَيْهِمْ کی مجبوری سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہو جائے گی۔ غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بناتا ہے۔ بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گر کر مر جاتے تھے۔ لیکن یہ عذر بالکل فضول ہے اور صرف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں واقعی ے یہ اعتقاد رکھا اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب