مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 531 of 632

مسیحی انفاس — Page 531

۵۳۱ قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و حکیم الہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت پر اخاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کار ہا کہ قریب قریب نا کام کے رہے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کے لئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزار ہا بندگان خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچادیا اور اصلاح خلق اور اندرونی تبدیلیوں میں وہ ید بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تنگ نظیر نہیں پائی جاتی۔حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مرجاتے تھے کیونکہ بذریعہ عمل التراب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی مگر جن کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اور یہ جو میں نے مسمریز می طریق کا عمل التراب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اور اس عمل کے عجائبات نسبت بھی الہام ہوا۔هذا هو التراب الذي لا يعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔ورنہ خدا تعالیٰ اپنی ہر یک صفت میں واحد لاشریک ہے اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔فرقان کریم کی آیات بینات میں اس قدر اس مضمون کی تائید پائی جاتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا ہے۔