مسیحی انفاس — Page 527
۵۲۷ ساری اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کون سے ایسے پرندے ہیں جو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور کون سے ایسے پرندے ہیں کو ان پرندوں کی نسل ہیں جن کے حضرت عیسی خالق ہیں؟ تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یہ اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدا تعالیٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسی کی مخلوق ہے۔سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے والا بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسی کو خدا تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بعض اپنی خدائی کی صفتیں ان کو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے۔کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلا شبہ وہ اپنی صفتیں خدائی کی ایک بندے کو دے کر پورا خدا بنا سکتا ہے۔پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے شہر جائیں گے۔اگر خدا تعالیٰ کسی بشر کو اپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے پھر تو وہ اس طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر خدائی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کا وحدہ لا شریک ہونا باطل ہے۔جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود خدا ہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی در حقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو خدا تعالیٰ نے خدائی کی طاقتیں دے رکھی ہیں۔رب اعلیٰ و بر تر تو وہی ہے اور یہ صرف چھوٹے چھوٹے خدا ہیں۔تعجب کہ یہ لوگ یارسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منع کرتے ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو خدائی کا حصہ دار بنا رہے ہیں۔بھائیو آپ لوگوں کا دراصل یہی مذہب ہے کہ خدائی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی صفت خالقیت در از قیت و عالمیت و قادر تیت وغیرہ میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ و جدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو خدا کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ خدائی طاقتیں انہیں دے رکھتی ہیں۔اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الہی ان کو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی۔اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں نذریں نیاز میں لیتے