مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 632

مسیحی انفاس — Page 526

۵۲۶ ۳۸۱ الترب عو ان کے وطن کا بادشاہ تھا کوئی معجزہ دکھاتے مگر وہ کچھ بھی دکھا نہ سکے ۔ بلکہ ایک مرتبہ ۔ فقہوں اور فریسیوں نے جن کی قیصر کی گورنمنٹ میں بڑی عزت تھی حضرت مسیح سے معجزه مانگا تو حضرت مسیح نے انہیں مخاطب کر کے پر اشتعال اور پر غضب الفاظ سے فرمایا کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈھتے ہیں ۔ پر یونس نبی کے نشان کے سوائے کوئی نشان انہیں دکھایا نہیں جائے گا۔ دیکھو متی باب ۱۲ آیت ۳۹ اور حضرت مسیح نے یونس نبی کے نشان کی طرف جو اشارہ فرمایا تو اس سے حضرت مسیح کا یہ مطلب تھا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں ہلاک نہیں ہوا بلکہ زندہ رہا اور زندہ نکل آیا ایسا ہی میں بھی صلیب پر نہیں مروں گا اور نہ قبر میں مردہ داخل ہوں گا۔ ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۵ تا ۱۰۸ بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیات قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا ی کے معمولات معمل کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بنا پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کے کے ذریعہ ہونے کا دعوی ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اسکو زندہ کر کے دکھلائیے ۔ کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح کے کروڑہا پر ندے بنائے ہوئے اب تک موجود ہیں پرندے جو ہر طرف پرواز کرتے نظر آتے ہیں تو پھر شیل مسیح بھی کسی پرندہ کا خالق تھے ہونا چاہئے۔ ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھتا ہے متشابہات میں یہ سے ہیں اور ان کے یہ معنے کرنا کہ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت معنی کرنا کہ گویا عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھتا ہے صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسرے کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی اپنی کچھ خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسی خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے ان کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنا دیا تھا۔ اور یہ اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا متیل بنادیوے قادر مطلق جو ہوا۔ یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر ۔ اس موحد کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم