مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 632

مسیحی انفاس — Page 523

۵۲۳ زمانہ : سب امراض کرتے تھے اور ہندوستان میں بھی بہت لوگ اس قسم کے ہوئے ہیں اور آج کل تو ہزاروں ہزار دہریے اور محمد بھی ایسے ہیں جو سلب امراض کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک فن اور مشق ہے جس کے لئے یہ بھی ضرور نہیں کہ اس فن کا عامل خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہو یا نیک چلن ہو۔جس طرح پر دوسرے علوم کے حصول کے لئے نیک چلنی اور خدا پرستی شرط نہیں ہے اس کے لئے تبھی نہیں۔یعنی اگر کوئی شخص ریاضی کے قواعد کی مشق کرے تو قطع نظر اس کے کہ وہ دہریہ ہے یا موحد خدا پر ست، وہ قواعد اس کے لئے کوئی روک پیدا نہیں کریں گے۔برخلاف اس کے وہ روحانی کمالات جو اسلام سکھاتا ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ اعمال میں پاکیزگی اور صدق اور وفاداری ہوتے بغیر کے ہو۔اس کے وہ باتیں حاصل ہی نہیں ہو سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سب امراض والے مسیح کے اچھے کئے ہوئے مرگئے لیکن قد أفلح من زكنها کی تعلیم دینے والے کے زندہ کئے ہوئے آج تک بھی زندہ ہیں اور ان پر کبھی فنا آہی نہیں ملفوظات جلد ۸ صفحه ۱۳۷ تا ۱۳۹ ينى نیز ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۱۰، ۱۱۱۔اب عیسائیوں کے عقائد اور مذہب کو اس معیار پر بھی آزما کر دیکھ لو۔کہ ان میں بجز بوسیدہ ہڈیوں اور مردہ باتوں کے اور کیا رکھا ہے۔بلا تفاق وہ مانتے ہیں کہ ان میں آج ایک آزمائش عیسائیت میں بھی ایسا شخص نہیں جو اپنے مذہب کی صداقت اور خون مسیح کی سچائی پر اپنے نشانات کی مہر کوئی زندہ نشان نہیں لگا سکے۔یہ تو بڑی بات ہے میں کہتا ہوں کہ انجیل کے قرار داده نشانوں کے موافق تو شاید ایمان دار ہونا بھی ایک امر محال ہو گا۔اچھا۔زندہ نشانات کو تو جانے دو عیسائی جو اپنے تائیدی نشانوں کے لئے مسیح کی قبر کا پتہ دیتا ہے کہ اس نے فلاں قبر سے مردہ اٹھایا تھا وہ بجز قصوں کے اور کیا وقعت رکھ سکتے ہیں۔اسی لئے میں نے بار ہا کہا ہے کہ یہ سلب امراض کے انجو ہے جو بعض ہندو سنیاسی بھی کرتے ہیں۔اور اس ترقی کے زمانہ میں مسمریزم والے بھی دکھاتے ہیں۔آج کوئی معجزات کے رنگ میں نہیں مان سکتا اور پیش گوئی ہی ایک ایساز بر دست نشان ہے جو ہر زمانہ میں قابل عزت سمجھا جاتا ہے مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیح کی جو پیش گوئیاں انجیل میں درج ہیں وہ ایسی نہیں کہ ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ قحط پڑیں گے۔