مسیحی انفاس — Page 522
جس پر اسے خدا مان لیا گیا۔اگر ایک مجلس میں اللہ تعالیٰ کے صفات بیان کئے جاویں اور اس میں آریہ، عیسائی اور مسلمان موجود ہوں تو اگر کسی کا ضمیر مر نہیں گیا تو بجز مسلمان کے ہر ایک خدا تعالیٰ کے صفات بیان کرنے سے شرمندہ ہو گا۔مثلاً آریہ کیا یہ بیان کر کے خوش ہو گا کہ میں ایسے خدا پر ایمان لاتا ہوں جس نے دنیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔وہ میری روح اور جسم کا خالق نہیں۔مجھے جو کچھ ملتا ہے میرے اپنے اعمال اور افعال کا ثمرہ ہے۔خدا تعالیٰ کا کوئی عطیہ اور کرم نہیں۔میرا خدا مجھے کبھی ہمیشہ کی نجات نہیں دے سکتا۔میرے لئے لازمی ہے کہ میں جونوں کے چکر میں آکر کپڑے مکوڑے بنا یا کیا عیسائی صاحب یہ بیان کر کے راضی ہو گا کہ میں ایک ایسے خدا پر ایمان لاتا ہوں جو ناصرہ بستی میں یوسف نجار کے گھر معمولی بچوں کی طرح پیدا ہوا تھا۔وہ معمولی بچوں کی طرح رونا چلاتا اور کبھی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ماں باپ سے تھپڑ بھی کھاتا تھا۔اسے اتنی بھی خبر نہ تھی کہ وہ انجیر کے پھل کے موسم کا علم رکھتا۔وہ ایسا غصہ ور تھا کہ درختوں تک کو بد دعائیں دیتا تھا۔وہ آخر میرے گناہوں کی وجہ سے صلیب پر لعنتی ہوا۔اور تین دن ہاویہ میں رہا۔بتاؤ کیا وہ یہ باتیں خوشی کے ساتھ بیان کرے گا یا اندر ہی اندر اس کا دل کھایا جائے گا۔لیکن ایک مسلمان بڑی جرات اور دلیری سے کہے گا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا ہوں جو تمام صفاتِ کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزہ ہے وہ رب ہے بلا مانگے دینے والا رحمان ہے۔سچی محنتوں کے ثمرات ضائع نہ کرنے والا ہے۔وہ حی و قیوم، ارحم الراحمین خدا ہے۔وہ ہمیشہ کی نجات دیتا ہے۔اس کی عطاء غیر مجذوذ ہے۔پس جب مسلمان اپنے خدا کی صفات بیان کرے گاتو ہرگز شرمندہ نہیں ہو گا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو ہم پر ہے۔ایسا ہی اور بہت سی باتیں ہیں۔ء۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ہم کبھی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتے۔مجربات مسیح کی حقیقت ڈوئی نے خوب کھولی ہے وہ دعوی کرتا ہے کہ میں بھی سلب امراض کرتا ہوں۔اسی طرح پر جس طرح یسوع مسیح کیا کرتا تھا۔اور عجیب تریہ بات ہے کہ جہاں کوئی شخص اچھا نہیں ہوتا وہاں وہ شرمندہ نہیں ہو تا بلکہ کہہ دیتا ہے کہ یسوع مسیح سے بھی فلاں شخص اچھا نہیں ہوا۔سلب امراض فی الحقیقت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ناز کیا جاسکے۔یہودی بھی اس ۵۲۲