مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 632

مسیحی انفاس — Page 35

۳۵ بادشاہوں کو ہلاک کرتا ہے۔یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ "یار غالب شوکه تا غالب شوی"۔ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مردہ مذہب ہے۔ہم اس کتاب سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو مردہ کتاب ہے۔اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مردہ خدا ہے۔مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہو تا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا میں دیکھتا ہوں کہ اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔اور مسیح کی طرح میرے پر بھی بہت حملے ہوئے مگر ہر ایک حملہ میں دشمن نا کام رہے۔اور مجھے پھانسی دینے کے لئے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ہر ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لئے اس نے بڑے بڑے مجربات دکھلائے اور بڑے بڑے قومی ہاتھ دکھلائے اور ہزارہا نشانوں سے اس نے مجھ پر ثابت کر دیا خدا وہی خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔اور میں عیسی مسیح کو ہر گزان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا۔یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان منجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے۔یعنی سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۲ تا ۳۵۴ نیز دیکھیں ملفوظات جلد ۳ صفحہ۱۱۶ ۱۱۷ IA عیسائیوں کے اعتقاد کی رو سے بھی ان کا مجستم خدا قیوم الاشیاء نہیں ہو سکتا۔کیونکہ قیوم ہونے کے لئے معیت ضروری ہے۔اور ظاہر ہے کہ عیسائیوں کا خدا ایسوع اب عیسائیوں کا خدا قوم زمین پر نہیں کیونکہ اگر زمین پر ہوتا تو ضرور لوگوں کو نظر آتا جیسا کہ اس زمانہ میں نظر آتا ایشیاء میں ہو سکی ہیں تھا جبکہ پلاطوس کے عہد میں اس کے ملک میں موجود تھا۔پس جبکہ وہ زمین پر موجود نہیں تو زمین کے لوگوں کا قیوم کیونکر ہو۔رہا آسمان سو وہ آسمانوں کا بھی قیوم نہیں۔کیونکہ اس کا جسم تو صرف چھ سات بالشت کے قریب ہو گا۔پھر وہ سارے