مسیحی انفاس — Page 509
۵۰۹ پہلے کبھی ظاہر ہوں گے۔اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کو سنت اللہ کا علم نہیں اگر ایسے منتجات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پر دے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲ تا ۴۴ حضرت عیسی علیہ السّلام کے حواریوں میں ہی دیکھو کہ یہودا اسکریوطی کیونکر اول سے اخیر تک صحبت میں رہ کر صرف تیس روپیہ کے لالچ سے مرتد ہو گیا پطرس نے بھی معجزات ، تین مرتبہ لعنت کی۔باقی سب بھاگ گئے شاید حواریوں کی بد اعتقادی کا موجب وہی صورت ہی کی باتوں اور حواریوں کی اصلاح واقعات ہوں گے جو انجیل متی کے چھبیس باب میں بتفصیل درج ہیں۔کیونکہ حضرت نہ کر سکے عوالي عیسی تمام رات جاگتے رہے اور اپنی رہائی کے لئے دعا مانگی اور حواریوں کو بھی کہا کہ تم بھی دعا مانگو مگر وہ قبول نہیں ہوئی۔اور جس قدر تکلیف مقدر تھی پہنچ گئی۔اس دعا میں حضرت مسیح نے یہ بھی کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے مگر دعا کے نہ قبول ہونے حواری بدظن ہو گئے اور یہ امر قابل بحث کہ حضرت عیسی نے نبی ہو کر اپنی جان بچانے کے لئے اس قدر کیوں اضطراب کیا۔حاصل کلام یہ کہ انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری اکثر مرتد ہوتے رہے اور اس آخری واقعہ سے پہلے بھی ایک جماعت کثیر مرتد ہو گئی تھی بلکہ ایک اور مقام میں حضرت عیسی و پیش گوئی کے طور پر فرماتے ہیں کہ بعض میرے پر ایمان لانے والے پھر مرتد ہو جائیں گے۔اور خود حضرت عیسی علیہ السّلام کے تحقیقی بھائی ہی ان سے راہ راست پر نہ آسکے۔چنانچہ جان ڈیون پورٹ صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے بھائی ان سے ہمیشہ بگڑے ہی رہے بلکہ ایک دفعہ انہوں نے قید کرانے کے لئے گورنمنٹ میں درخواست بھی کر دی تھی۔پھر جب کہ وہ لوگ جو اسی ماں کے پیٹ سے نکلے تھے جس پیٹ سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نکلے تھے حضرت عیسی " سے درست نہ ہو سکے تو پھر عوام کی سرسری بیعتوں کی بناء پر کیوں اعتراض کیا جائے۔حضرت عیسی کے بھائی سمجھنے والوں کے لئے ایک نہایت عمدہ نمونہ ہے کہ ایک بھائی تو پیغمبر اور چار حقیقی بھائی بے دین بلکہ دشمن دین اور وہ بھائی باوجود دن رات کے تعلقات کے ایسے سخت منکر رہے کہ ان سے