مسیحی انفاس — Page 500
۵۰۰ دن سے پیدا ہوئے اسی دن سے لوگوں کی لعنت کے مورد ہوئے۔کیا یہودیوں نے ان کے ساتھ تھوڑی کی ہے۔ابتدا بھی ان کی لعنت سے ہے اور انتہا بھی لعنت سے ہے دراصل تو ان کا مصدق کوئی نظر نہیں آتا۔یہود تو لعنت کرتے ہی تھے جو حواری تھے وہ بھی لعنت کرتے تھے۔ایک نے ان میں سے تین بار لعنت کی۔پھر چھوڑ کر چلے گئے۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے مصدق بنے کہ ہر ایک عیب سے ان کی برتیت کی۔بھلا اس سے بڑھ کر کیا احسان ہو سکتا ہے کہ بجائے لعنت کے رحمت کا خطاب ان کو دلایا۔اب کروڑوں مسلمان رحمتہ اللہ کا لفظ ان کے لئے بولتے ہیں۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحہ ۱۷۷ - حاشیہ یہ صحیح نہیں ہے کہ صحابہ حضرت مسیح کی اس شان کے قائل تھے جو خدائی کی ناواقف مسلمانوں نے ان کی بنارکھی ہے۔اگر وہ مسیح کو اسی شان سے مانتے کہ وہ حقیقی مردے مسیح آنحضرت نے ہی کا زندہ کرتے تھے اور حتی وقیوم تھے تو ایک بھی مسلمان نہ ہوتا۔اور اگر رسول اللہ صلی اللہ تمریہ کیا وسلم سے بڑھ کر ان کی صفات کو یقین کرتے تو وہ اخلاص اور وفاداری ان میں پیدانہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کا تبریہ کیا اور ان الزاموں سے پاک کیا جوان پر نا پاک یہودی لگاتے تھے۔جو یہودی مسلمان ہو تا تھا کتنی بڑی بات ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی رسالت کا اسے پہلے اقرار کرنا پڑتا عیسائی مذہب ایسا ہے کہ اس کو پیدا ہوتے ہی صدمہ پہنچا جیسے کوئی لڑکی پیدا ہوتے ہی اندھی ہو۔ایسا ہی اس مذہب کا حال ہے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر احسان کیا اور اس کو پاک کیا۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحہ ۱۷۶، ۱۷۷ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنا پیغام کی وسعت کے دے اور ہزار ہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملادے۔اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر دعوی کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لحاظ سے موازنہ