مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 632

مسیحی انفاس — Page 500

۵۰۰ تبریہ کیا دن سے پیدا ہوئے اسی دن سے لوگوں کی لعنت کے مورد ہوئے۔ کیا یہودیوں نے ان سے کے ساتھ تھوڑی کی ہے۔ ابتدا بھی ان کی لعنت سے ہے اور انتہا بھی لعنت سے ہے اور در اصل تو ان کا مصدق کوئی نظر نہیں آتا۔ یہود تو لعنت کرتے ہی تھے جو حواری تھے وہ بھی لعنت کرتے تھے ۔ ایک نے ان میں سے تین بار لعنت کی۔ پھر چھوڑ کر چلے تھے۔ سے گئے۔ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے مصدق بنے کہ ہر ایک عیب سے ان کی بریت کی۔ بھلا اس سے بڑھ کر کیا احسان ہو سکتا ہے کہ بجائے لعنت کے رحمت کا خطاب ان کو دلایا۔ اب کروڑوں مسلمان رحمتہ اللہ کا لفظ ان کے لئے بولتے ہیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحہ ۱۷۷ - حاشیہ یہ صحیح نہیں ہے کہ صحابہ حضرت مسیح کی اس شان کے قائل تھے جو خدائی کی نا واقف نہیں ہے صحابہ حضرت کی اس شان کے حامل تھے جو خدائی کی واقف مسلمانوں نے ان کی بنارکھتی ہے۔ اگر وہ مسیح کو اسی شان سے مانتے کہ وہ حقیقی مردے سانے انحضرت نے سب کا زندہ کرتے تھے اور حی و قیوم تھے تو ایک بھی مسلمان نہ ہوتا۔ اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ان کی صفات کو یقین کرتے تو وہ اخلاص اور وفاداری ان میں پیدانہ سے ہوتی ۔ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کا تبریہ کیا اور ان الزاموں سے پاک کیا جو ان پر نا پاک یہودی لگاتے تھے ۔ جو یہودی مسلمان ہوتا تھا کتنی بڑی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی رسالت کا اسے پہلے اقرار کرنا پڑتا عیسائی مذہب ایسا ہے کہ اس کو پیدا ہوتے ہی صدمہ پہنچا جیسے کوئی لڑکی پیدا ہوتے ہی اندھی ہو ۔ ایسا ہی اس مذہب کا حال ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہو۔ کا احسان کیا اور اس کو پاک کیا۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحہ ۱۷۶، ۱۷۷ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنا پیغام کی وسعت کے دے اور ہزار ہا برسوں کے پچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملادے ۔ اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر دعوی کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لحاظ سے موازنہ