مسیحی انفاس — Page 478
اپنے یسوع کو مصداق قول الفقر فخری کا ٹھیرایا۔سو انہیں یاد رہے کہ فقر قابل چپل تحسین فقر تحسین وہ ہے جس میں صاحب فقر کی سخاوت اور ایثار کا ثبوت ملے یعنی اس کو دنیا دی جائے مگر وہ دنیا کے مال کو دنیا کے محتاجوں کو دے دے۔جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہ لکھوکھا روپیہ پایا اور محتاجوں کو دے دیا۔ایک مرتبہ ایک کافر کو اونٹوں اور بکریوں کا پہاڑ بھرا ہوا بخش دیا۔آپ کے یسوع کا کسی محتاج کو ایک روٹی دینا بھی ثابت نہیں۔سویسوع نے دنیا کو نہیں چھوڑا بلکہ دنیا نے یسوع کو چھوڑا۔ان کو کب مال ملا جس کو لے کر انہوں نے محتاجوں کو دے دیا۔وہ خود تو بار بار روتے ہیں کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ایسے فقر کے رنگ میں تو دنیا میں ہزار ہالنگوٹی پوش موجود ہیں جن کو داؤد نبی نے مورد غضب الہی قرار دیا ہے۔اور ایسے نظر کے لئے یہ حدیث ہے۔الفقر سواد الوجه في الدارين مجموعہ اشتہارات - جلد ۲ صفحہ ۲۳۸ اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ شیاطین بھی ایمان لے آتے ہیں۔چنانچہ ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔غرض ہر ایک شیطان پر غلبہ انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔اور مطہر اور مقرب انسان کا شیطان ایمان لے آتا ہے۔مگر افسوس کہ یسوع کا شیطان ایمان نہیں لا سکا۔بلکہ الٹا اس کو گمراہ کرنے کی فکر میں ہوا اور ایک پہاڑی پر لے گیا اور دنیا کی دولتیں دکھلائیں اور وعدہ کیا کہ سجدہ کرنے پر یہ تمام دولتیں دے دوں گا۔اور شیطان کا یہ مقولہ حقیقت میں ایک بڑی پیش گوئی تھی اور اس بات کی طرف اشارہ بھی تھا کہ جب عیسائی قوم اس کو سجدہ کرے گی تو دنیا کی تمام دولتیں ان کو دی جاویں گی۔سو ایسا ظہور میں آیا۔جن کے پیشوا نے خدا کہلا کر پھر شیطان کی پیروی کی یعنی اس کے پیچھے ہو لیا۔ان کا شیطان کو سجدہ کرنا کیا بعید تھا۔غرض عیسائیوں کی دولتیں در حقیقت اسی سجدہ کی وجہ سے ہیں جو انہوں نے شیطان کو کیا اور ظاہر ہے کہ شیطانی وعدہ کے موافق سجدہ کے بعد عیسائیوں کو دنیا کی دولتیں دی گئیں۔معیار المذاہب۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۷۶،۴۷۵ حاشیه