مسیحی انفاس — Page 476
قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئی جس کے مقابل میں حضرت مسیح بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں۔سورہ مائدہ میں ہے کہ نزول مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے کہ قَالُو انْرِيدُ أَن تَأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا آنحضرت اور آپ کے وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ محلہ کی فضیلت مسیح اور ان کے حواریوں ۱۳۲۷ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس قدر معجزات مسیح کے بیان کئے جاتے ہیں اور جو حواریوں نے دیکھے تھے ان سب کے بعد ان کا یہ درخواست کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے قلوب پہلے مطمئن نہ ہوئے تھے۔ورنہ یہ الفاظ کہنے کی ان کو کیا ضرورت تھی۔وَتَطْمَئِنَ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا مسیح کی صداقت میں بھی اس سے پہلے کچھ شک ہی ساتھا۔اور وہ اس جھاڑ پھونک کہ معجزہ کی حد تک نہیں سمجھتے تھے۔ان کے مقابلہ میں صحابہ کرام ایسے مطمئن اور قومی الایمان تھے کہ قرآن شریف نے ان کی نسبت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ فرمایا۔اور یہ بھی بیان کیا کہ ان پر سکینت نازل فرمائی۔یہ آیت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت کھولتی ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرتی ہے۔صحابہ کا کہیں ذکر نہیں۔کہ انہوں نے کہا کہ ہم اطمینان قلب چاہتے مایه کایہ حال پر سکینت نازل ہوئی۔اور یہود کا ان حال يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَ هُمْ أَبْنَاءَهُمْ ان کی حالت بتائی۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت یہاں تک کھل گئی تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کی طرح شناخت کرتے تھے اور نصاری کا یہ حال کہ ان کی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں تو آنسو جاری ہو جاتے تھے۔یہ مراتب مسیح کو کہاں نصیب ! ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۳۲۲، ۳۲۳ معصوم ہونے کے اسباب اور معصوم بنانے کے اسباب جس قدر ہمارے نبی صلی معصوم ہونے کے لحاظہ اللہ علیہ وسلم کو میسر آئے تھے وہ کسی نبی کو کبھی نہیں ملے۔اسی لئے عصمت کے مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جس مقام اور درجہ پر ہیں وہاں اور کوئی نہیں ہے۔خود کوئی سے موازنہ