مسیحی انفاس — Page 474
۴۷۴ صحابہ کے لحاظ سے موازنه چاہئے تھا اور خوب ان کو سمجھانا چاہئے تھا۔حلانکہ یہ بجائے سمجھانے کے گالی پر گالی دیتے چلے جاتے ہیں۔کیا اس کا نام اخلاق ہے۔میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر قرآن شریف نہ ہوتا اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوئے ہوتے تو صیح کی خدائی اور نبوت تو ایک طرف شاید کوئی دانشمندان کو کوئی عالی خیال اور وسیع الاخلاق انسان ماننے میں بھی قاتل کرتا۔یہ قرآن شریف کا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان عام ہے تمام نبیوں پر اور خصوصاً مسیح پر کہ اس نے ان کی نبوت ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۵۹ تا ۱۶۴ کا ثبوت خود دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوش عشق الہی پیدا ہوا اور توجہ قدسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تاثیر ان کے دلوں میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سر کٹائے۔کیا کوئی پہلی امت میں ہمیں دکھا سکتا ہے یا نشان دے سکتا ہے کہ انہوں نے بھی صدق اور صفا دکھلایا به۔حضرت مسیح کے صحابہ کا حال سنو کہ ایک نے تو جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا تمیں روپیہ لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کرا دیا اور پطرس حواری جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں اس نے حضرت مسیح کے روبروان پر لعنت بھیجی اور باقی جس قدر حواری تھے وہ مصیبت کا وقت دیکھ کر بھاگ گئے۔اور ایک نے بھی استقامت نہ دکھلائی اور ثابت قدم نہ رہے اور بزدلی ان پر غالب آگئی۔اور ہمارے نبي صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تلواروں کے سایہ کے نیچے وہ استقامتیں دکھلائیں اور اس طرح مرنے پر راضی ہوئے جن کی سوانح پڑھنے سے رونا آتا ہے۔پس وہ کیا چیز تھی جس نے ایسی عاشقانہ روح ان میں پھونک دی۔اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے ان میں اس قدر تبدیلی کر دی۔یا تو جاہلیت کے زمانہ میں وہ حالت ان کی تھی کہ وہ دنیا کے کپڑے تھے اور کوئی معصیت اور ظلم کی قسم نہیں تھی جو ان سے ظہور میں نہیں آئی تھی۔اور یا اس نبی کی پیروی کے بعد ایسے خدا کی طرف کھینچے گئے کہ گویا خدا ان کے اندر سکونت پذیر ہو گیا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ وہی توجہ اس پاک نبی کی تھی جو ان لوگوں کو سفلی زندگی سے ایک پاک زندگی کی طرف کھینچ کر لے آئی اور