مسیحی انفاس — Page 473
۴۷۳ نے آپ کو نکلا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپ کو پہنچاتے رہے۔آپ کے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں۔جن کے تصور سے بھی دل کانپ جاتا ہے۔اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپ نے کام لیا ، وہ ظاہر بات ہے۔لیکن جب خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقعہ ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپؐ پر اور آپؐ کی جماعت پر کی تھیں آپ کو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے۔اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتہ ہو چکے تھے۔مگر آپ نے کیا کیا ؟ آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور کہا لاتثریب علیکم اليوم - یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔مکہ کی مصائب اور تکالیف کے نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح پر اپنے جانستاں دشمن کو معاف کیا جاتا ہے۔یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔اب ہمیں پادری بتائیں کہ مسیح کے اس خلق کہ ہم کہاں ڈھونڈیں؟ ان کی زندگی میں آپ کا نمونہ کہاں سے لائیں جب کہ وہ ان کے عقیدے موافق ماریں ہی کھاتا رہا۔اور جس کو سر رکھنے کی جگہ بھی نہ ملی (اگر چہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ہم خدا کے ایک نبی اور مامور کی نسبت یہ گمان کریں کہ وہ ایسا ذلیل اور مفلوک الحال تھا) انسان کا سب سے بڑا نشان اس کا خلق ہے لیکن ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والے معلم کی عملی حالت میں اس خلق کا ہمیں کوئی پتہ نہیں دوسروں کو کہتا ہے گالی نہ دو مگر یہودیوں کے مقدس فریسیوں اور فقیہوں کو حرامکار۔سانپ اور سانپ کے بچے آپ ہی کہتا ہے۔یہودیوں میں بالمقابل اخلاق پائے جاتے ہیں۔وہ اسے نیک استاد کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ ان کو حرامکار کہتے ہیں اور کتوں اور سوڑوں سے تشبیہ دیتے ہیں باوجودیکہ وہ فقیہہ اور فریسی نرم نرم الفاظ میں کچھ پوچھتے ہیں اور وہ دنیوی وجاہت کے لحاظ سے بھی رومی گورنمنٹ میں کرسی نشین تھے۔ان کے مقابلہ میں ان کے سوالوں کا جواب تو بہت ہی نرمی سے دینا