مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 632

مسیحی انفاس — Page 31

۳۱ اگر صرف خدا تعالیٰ کی روح تھی تو پھر حضرت مسیح انسان بلکہ کامل انسان کن معنوں میں کہلا سکتے ہیں کیا صرف جسم کے لحاظ سے انسان کہلاتے ہیں۔اور میں بیان کر چکا ہوں کہ جسم تو معرض تخلیق میں ہے چند سال میں اور ہی جسم ہو جاتا ہے اور کوئی دانشمند جسم کے لحاظ سے کسی کو انسان نہیں کہ سکتا جب تک روح انسانی اس میں داخل نہ ہو۔پھر اگر مسیح میں اگر روح انسان حضرت مسیح در حقیقت روح انسانی رکھتے تھے اور وہی روح مدیر جسم تھی اور وہی روح کی تھی تودہ خدانہ ہوئے مصلوب ہونے کے وقت بھی مصلوبی کے وقت نکلی تھی اور اگر خدا کی روح تھی تو انسان نہ ہوئے۔اور ایلی ایلی کہہ کر حضرت مسیح نے جان دی تو پھر روح خدائی کس حساب اور شمار میں آئی یہ ہمیں سمجھ نہیں آتا اور نہ کوئی عظمند سمجھ سکتا ہے۔اگر در حقیقت روح کے لحاظ سے بھی حضرت مسیح انسان تھے تو پھر خدا نہ ہوئے۔اور اگر روح کے لحاظ سے خدا تھے تو پھر انسان نہ ہوئے۔ایک سخت اعتراض ہے جس سے قطعی طور پر حضرت مسیح کی الوہیت کا بطلان ہوتا ہے۔انہی اعتراضات کو قرآن کریم نے پیش کیا ہے اور اس بنا پر میں نے یہ شرط کی تھی کہ حضرت مسیح کی الوہیت پر کوئی عقلی دلیل پیش ہونی چاہئے مگر افسوس کہ اس شرط کا کچھ بھی لحاظ نہ ہوا۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۹۵ ۱۹۶ صفات الوہیت سے جو خدا کی صفات کاملہ تھی وہ سب ابن مریم پر تھاپ دی۔اور ان کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جمیع مافی العالم کا رب نہیں ہے بلکہ مسیح اس کی ربوبیت سے باہر ہے بلکہ سیح آپ ہی رب ہے۔اور جو کچھ عالم میں پیدا ہوا وہ بزعم باطل ان کے بطور تھی مگر الہ۔قاعدہ کلیہ مخلوق اور حادث نہیں بلکہ ابن مریم عالم کے اندر حدوث پاکر اور صریح مخلوق ہو کر پھر غیر مخلوق اور خدا کے برابر بلکہ آپ ہی خدا ہے۔اور اس کی عجیب ذات میں ایک ایسا الجو بہ ہے کہ باوجود حادث ہونے کے قدیم ہے۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے ایک واجب الوجود کے ماتحت اور اس کا محکوم ہے۔مگر پھر بھی آپ ہی واجب الوجود اور آزاد مطلق اور کسی کا ماتحت نہیں۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے عاجز اور ناتوان ہے۔مگر پھر بھی عیسائیوں کے بے بنیاد زعم میں قادر مطلق ہے اور عاجز نہیں۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے امور غیبیہ کے بارہ میں نادان محض ہے