مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 632

مسیحی انفاس — Page 468

ہے۔لیکن اگر عیسائیوں کو ایماندار مان لیا جاوے تو ساتھ ہی ملنا پڑے گا کہ انجیل موجودہ کسی ایسے شخص کا کلام ہے کہ جو جھوٹی پیش گوئیوں کے سہارے سے اپنے گروہ کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔مگر یاد رہے کہ اس تقریر سے حضرت مسیح علیہ السلام پر ہمارا کوئی حملہ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر یہ باتیں حضرت مسیح کی طرف سے ہیں تو انہوں نے ایمان داروں کی یہ نشانیاں لکھ دیں۔پھر اگر کوئی ایمانداری کو چھوڑ دے تو حضرت مسیح کا کیا قصور۔بلکہ حضرت مسیح نے ان علامات کے لباس میں عیسائیوں کے بے ایمان ہو جانے کے زمانہ کی ایک پیش گوئی کر دی ہے۔یعنی یہ کہہ دیا ہے کہ جب اے عیسائیو تمہارے پر ایسا زمانہ آوے کہ تم میں یہ علامتیں نہ پائی جاویں تو سمجھو کہ تم بے ایمان ہو گئے اور ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی تم میں ایمان نہ رہا۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے عیسائیوں کے بعض خواص افراد میں یہ علامتیں پائی جاتی تھیں اور خوارق ان سے ظہور میں آتے تھے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت میں جب وہ لوگ بہ باعث نہ قبول کرنے اس آفتاب صداقت کے بے ایمان ہو گئے اور ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہ رہا۔تب عموماً بے ایمانی کی علامتیں ان میں ظاہر ہو گئیں۔مسلمانوں کو لازم ہے کہ جب تک عیسائی اقاموا التوراة والانجيل کا اپنے تئیں مصداق ثابت نہ کریں یعنی ایمانداری کی علامتیں نہ دکھلائیں تب تک بار بار ان سے یہی مواخذہ کریں کہ وہ ان علامات قرار دادہ انجیل کے رو سے اپنا ایماندار ہونا ہمیں دکھلا دیں۔ان سے پوچھنا چاہئے کہ تم کس دین کی طرف بلاتے ہو۔آیا اس انجیلی دین کی طرف جس کے کی محمول کرنے والوں کی یہ علامتیں لکھتی ہیں کہ روح القدس ان کو ملتی ہے اور ایسے ایسے خوارق وہ دکھاتے ہیں اگر وہی دین ہے تو بہت خوب وہ علامتیں دکھلاؤ۔اور اول اپنے تیں ایک ایماندار عیسائی مالیت کرو۔اور پھر اس روشن اور مدلل ایمان کی طرف دوسروں کو بلاؤ اور جب کہ اس ایمان کی علامتیں ہی موجود نہیں تو نجات جس کا ملنا اسی ایمان پر مبنی ہے اسی طرح باطل ہوگی جیسا کہ تمہارا ایمان باطل ہے اور جھوٹے ایمان کا ثمرہ بچی نجات نہیں ہو سکتی بلکہ جھوٹی نجات ثمرہ ہوگی جو جہنم سے بچا نہیں سکتی۔غرض کوئی عیسائی بحیثیت عیسائی ہونے کے بحث کرنے کا حق نہیں رکھتا جب تک انجیلی نشانیوں کے ساتھ اپنے تئیں سچا عیسائی ثابت نہ کرے۔وائی نہم ذلک۔۴۶۸