مسیحی انفاس — Page 30
مثلاً اس وقت تک قائم اور برقرار سمجھا جائیگا جب تک اس کے مقابل پر چار یازیادہ آنکھوں کا ہونا ثابت نہ کر دیا جائے۔اسی بنا پر میں نے کہا تھا کہ اللہ جل شانہ ، کی یہ دلیل معقولی که قد خلت من قبله الرسل - جو بطور استقراء کے بیان کی گئی ہے یہ ایک قطعی اور یقینی دلیل استقرائی ہے۔جب تک کہ اس دلیل کو توڑ کر نہ دکھلایا جائے اور یہ ثابت نہ کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کی رسالتوں کو لے کر خدا تعالیٰ کے بیٹے بھی آیا کرتے ہیں اس وقت تک حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جل شانہ، اس دلیل سے صاف توجہ دلاتا ہے کہ تم مسیح سے لے کر انبیاء کے انتہائی سلسلہ تک دیکھ لو جہاں سے سلسلہ نبوت کا شروع ہوا ہے کہ بجز نوع انسان کے کبھی خدا یا خدا کا بیٹا بھی دنیا میں آیا ہے۔اور اگر یہ کہو کہ آگے تو نہیں آیا مگر اب تو آ گیا تو فن مناظرہ میں اس کا نام مصادره علی المطلوب ہے یعنی جو امر متنازعہ فیہ ہے اس کو بطور دلیل پیش کر دیا جائے۔مطلب یہ ہے کہ زیر بحث تو یہی امر ہے کہ حضرت مسیج اس سلسلہ متصلہ مرفوعہ کو توڑ کر کیونکر بحیثیت ابن اللہ ہونے کے دنیا میں آگئے اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت آدم نے بھی اپنی طرز جدید پیدائش میں اس سلسلہ معمولی پیدائش کو توڑا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم تو خود اس بات کے قائل ہیں کہ اگر دلائل معقولی سے یا تاریخی سے سلسلہ استقراء کے مخالف کوئی امر خاص پیش کیا جائے اور اس کو ادله عقلیہ سے یا ادلہ تاریخیہ سے ثابت کر دکھلایا جائے تو ہم اس کو مان لیں گے۔یہ تو ظاہر ہے کہ فریقین نے حضرت آدم کی اس پیدائش خاص کو مان لیا ہے گو وہ بھی ایک سنت اللہ طرز پیدائش میں ثابت ہو چکی ہے۔جیسا کہ نطفہ کے ذریعہ سے انسان کو پیدا کرنا ایک سنت اللہ ہے اگر حضرت مسیح کو حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ مشابہ کرنا ہے اور اس نظیر سے فائدہ اٹھانا ہی نظر ہے تو چاہئے کہ جس طرح پر اور جن دلائل عقلیہ سے انتہائی سلسلہ نوع انسان کا حضرت آدم کی پیدائش خاص تسلیم کی گئی ہے اسی طرح پر حضرت مسیح کا ابن اللہ ہونا یا خدا ہونا اور سلسلہ سابقہ مشہودہ مثبتہ کو توڑ کر بحیثیت خدائی و ابنیت خدا تعالیٰ دنیا میں انا ثابت کر دکھلاویں پھر کوئی وجہ انکار کی نہ ہوگی۔کیونکہ سلسلہ استقراء کے مخالف جب کوئی امر ثابت ہو جائے تو وہ امر بھی قانون قدرت اور سنت اللہ میں داخل ہو جاتا ہے سو ثابت کرنا چاہئے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۳ تا ۱۱۵