مسیحی انفاس — Page 452
۴۵۲ میں تفصیل بیان کر چکے ہیں۔اس سے آپ پر ثابت ہو گا کہ خدا تعالیٰ پر باپ کا لفظ اطلاق کرنا نہایت گندہ اور ناپاک طریق ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے سمجھانے کے لئے یہ تو کہا کہ خدا تعالیٰ کو ایسی محبت سے یاد کرو جیسا کہ باپوں کو یاد کرتے ہو۔مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کو باپ سمجھ لو۔اور انجیل میں ایک اور نقص یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم کسی جگہ نہیں دی کہ عبادت کرنے کے وقت اعلیٰ طریق عبادت یہی ہے کہ اعراض نفسانیہ کو درمیان سے اٹھا دیا جلوے بلکہ اگر کچھ سکھلایا تو صرف روٹی مانگنے کی دعا سکھلائی۔قرآن شریف نے تو ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ہمیں اس راہ پر قائم کر جو نبیوں اور صدیقوں کی اور عاشقان انہی کی راہ ہے۔مگر انجیل یہ سکھلاتی ہے کہ ہماری روزینہ کی روٹی آج ہمیں بخش۔ہم نے تمام انجیل پڑھ کر دیکھی ہے اس میں اعلیٰ تعلیم کا نام و نشان نہیں ہے۔نور القرآن حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۶ تا ۴۴۳ خدا کو راضی کرنے والی اس سے زیادہ کوئی قربانی نہیں کہ ہم در حقیقت اس کی راہ میں موت کو قبول کر کے اپنا وجود اس کے آگے رکھ دیں۔اسی قربانی کی خدا نے ہمیں تعلیم رآن کریم زادوں کو دی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے لن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یں کھانے کے یعنی تم حقیقی نیکی کو کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی پیاری چیزیں خدا کی راہ میں عيسى لئے تیار ہے خرچ نہ کرو۔یہ راہ ہے جو قرآن نے ہمیں سکھائی ہے اور آسمانی گواہیاں بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ یہی راہ سیدھی ہے۔اور مقتل بھی اس پر گواہی دیتی ہے۔پس جو امر گواہوں کے ساتھ ثابت ہے اس کے ساتھ وہ امر مقابلہ نہیں کھا سکتا۔جس پر کوئی گواہی نہیں۔یسوع ناصری نے اپنا قدم قرآن کی تعلیم کے موافق رکھا اس لئے اس نے خدا سے انعام پایا۔ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو لنار ہبر بنائے گاوہ بھی یسوع کی مانند ہو جائے گا۔یہ پاک تعلیم ہزاروں کو عیسی مسیح بنانے کے لئے تیار ہے اور لاکھوں کو بنا چکی