مسیحی انفاس — Page 433
سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔اخلاقی من کا فرض یہ ہے کہ آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے ؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر شاخ کی پرورش کرتی ہے۔اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور در گذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کر ناقرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔پس در حقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی بچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور در گذر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزا یاب بھی کرتا ہے۔ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور سچاقول الہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور در گذر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔اب بھی ناپاک طبع لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک ع الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو ان کو ہلاک کرے گا۔اور طاعون بھی ابھی دور نہیں ہوئی۔پہلے اس سے نوح کی قوم کا کیا حال ہوا۔لوط کی قوم کو کیا پیش آیا۔؟ سو یقیناً سمجھو کہ شریعت کا حصل تخلق بأخلاق الله ہے۔یعنی خدائے عزو جل کے اخلاق اپنے اندر حاصل کرنا۔یہی کمال نفس ہے۔اگر ایہ چاہیں کہ خدا سے بھی بڑھ کر کوئی نیک خلق ہم میں پیدا ہو تو یہ بے ایمانی اور پلید رنگ کی گستاخی ہے اور خدا کے اخلاق پر ایک اعتراض ہے۔۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۶ تا ۳۴۷ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے اس جگہ انجیل کی تعلیم کا ذکر نہیں کیا کیونکہ فیصلہ ہو