مسیحی انفاس — Page 432
۳۲ نوم خدا کی کلام قرآن شریف کو نہیں پڑھا۔! یں حق کے طالبوں کو سمجھاتا ہوں کہ قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن میں سزا یا طریق انصاف کی تفصیل ہے۔دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیہ کے طور پر لکھا ہے اور کسی خاص طریق کی تعییں نہیں کی۔اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پیدا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔مثلاً قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت آنکھ کے بدلے آنکھ۔یہ تو تفصیل ہے۔اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ جَزَاؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةُ مِثْلُهَا پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ا جمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے۔کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اس کے منہ میں دانت نہیں اور باعث کبر سنی یا کسی اور سبب سے اس کے دانت نکل گئے ہوں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اس کا دانت توڑ نہیں سکتے۔کیونکہ اس کے تو منہ میں دانت ہی نہیں۔ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں پس اس کے احکام اور قوانین پر کیونکر اعتراض ہو سکے۔اور اس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے۔مگر افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے۔اور انجیل میں صرف چند چند اخلاق بیان کئے ہیں۔وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۷، ۸۸ تعجب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السّلام نے خود اخلاقی تعلیم پر پر عمل نہیں کیا۔انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا۔اور ت نے خود اس تعلیم دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ پر عمل نہیں کیا گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت