مسیحی انفاس — Page 431
نے جو انسان کو اس قدر قومی عطا فرمائے ہیں ان سب کا موضوع و مقصود یہی ہے ہے کہ وہ طمانچے کھایا کرے ؟ انسان انسان تب ہی بنتا ہے کہ وہ سارے قومی کو استعمال کرے۔مگر انجیل کہتی ہے سارے قولی کو بیکار چھوڑ دو اور ایک ہی قوت پر زور دیئے جاؤ۔بالمقابل قرآن شریف تمام قوتوں کا مرتی ہے اور بر محل ہر قوت کے استعمال کی تعلیم دیتا ہے۔غرض حفظ مراتب کا مقام قرآن شریف نے رکھا ہے کہ وہ عدل کی طرف لے جاتا ہے۔تمام احکام میں اس کی یہی صورت ہے۔مال کی طرف دیکھو۔نہ ممسک بناتا ہے نہ مشرف۔یہی وجہ ہے کہ اس امت کا نام ہی امةً وَسَطًا رکھ دیا گیا ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۲۴۲،۲۴۱ انجیل انسان کی تمام قوتوں کی مرتی نہیں ہو سکتی۔اور جو کچھ اس میں کسی قدر اخلاقی حصہ موجود ہے وہ بھی دراصل توریت کا انتخاب ہے۔اس پر بعض عیسائیوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ” خدا کی کتاب کے مناسب حال صرف اخلاقی حصہ ہوتا ہے اور جزا انجیل میں اخلاقی سزا کے قوانین خدا کی کتاب کے مناسب حال نہیں کیونکہ جرائم کی سزائیں حالات متبدلہ تعلیم توریت سے جواب) کی مصلحت کے رو سے ہونی چاہئیں اور وہ حالات غیر محدود ہیں اس لئے ان کے لئے انتخاب کی گئی ہے۔صرف ایک ہی قانون سزا ہونا ٹھیک نہیں ہے ہر ایک سزا جیسا کہ وقت تقاضا کرے اور ایک اعتراض کا مجرموں کی تنبیہ اور سرزنش کے لئے مفید پڑ سکے دینی چاہئے۔لہذا ہمیشہ ایک ہی رنگ میں ان کا ہونا اصلاح خلائق کے لئے مفید نہیں ہو گا اور اس طرح پر قوانین دیوانی اور فوجداری اور مال گذاری کو محدود کر دینا اس بد نتیجہ کا موجب ہو گا کہ جو ایسی نئی صورتوں کے وقت میں پیدا ہو سکتا ہے جو ان قوانین محدودہ سے باہر ہوں۔مثلاً ایک ایسی جدید طرز کے امور تجارت پر مخالفانہ اثر کرے جو ایسے عام رواج پر مبنی ہوں جن سے اس گورنمنٹ میں کسی طرح گریز نہ ہو سکے۔اور یا کسی اور طرز کے جدید معاملات پر موثر ہو اور یا کسی اور تمدنی حالت پر اثر رکھتا ہو۔اور یا بد معاشوں کے ایسے حالات را سخہ پر غیر مفید ثابت ہو جو ایک قسم کی سزا کی عادت پکڑ گئے ہوں یا اس سزا کے لائق نہ رہے ہوں۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ خیالات ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے کبھی تدبر سے