مسیحی انفاس — Page 416
¦ قریباً تمام عیسائی اور ان کے فلاسفر آسمانوں کے وجود کے قائل ہی نہیں۔جن پر خدا کی بادشاہت کا انجیلوں میں سارا دارومدار رکھا گیا ہے۔مگر زمین توفی الواقع ایک کرہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے اور ہزار ہا قضا و قدر کے امور اس پر ظاہر ہور ہے ہیں۔جو خود سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کچھ تغیر و تبدل اور حدوث اور فنا کسی خاص مالک کے حکم سے ہو رہا ہے۔پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت نہیں۔بلکہ ایسی تعلیم ایسے زمانہ میں جبکہ عیسائیوں میں آسمانوں کا بڑے زور سے انکار کیا گیا ہے۔نہایت نا مناسب ہے۔کیونکہ انجیل کی اس دعا میں تو قبول کر لیا گیا ہے کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔اور دوسری طرف تمام محققین عیسائیوں نے بچے دل سے یہ بات مان لی ہے یعنی اپنی تحقیقات جدیدہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آسمان کچھ چیز نہیں ان کا کچھ وجو د ہی نہیں۔پس ماحصل یہ ہوا کہ خدا کی بادشاہت نہ زمین میں ہے نہ آسمان میں۔آسمانوں سے تو عیسائیوں نے انکار کیا۔اور زمین کی بادشاہت سے ان کی انجیل نے خدا کو جواب دے دیا۔تو اب بقول ان کے خدا کے پاس نہ زمین کی بادشاہت رہی نہ آسمان کی۔مگر ہمارے خدائے عز و جل نے سورۂ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیانہ زمین کا نام۔اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ ربّ العالمین ہے۔یعنی جہاں تک آبادیاں محمد ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے۔خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے۔جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔اور تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے۔اور یاد رہے کہ سورہ فاتحہ میں ' مالک یوم الدین سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی۔بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کبری کا وقت ہے۔مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے۔جس کی طرف آیت يَجْعَلَ لَكُم فرقانا اشارہ کرتی ہے۔اب یہ بات بھی سنو کہ انجیل کی دعا میں تو ہر روزہ روٹی مانگی گئی ہے۔جیسا کہ کہا کہ ”ہماری ، دیکھو لفظ رب العالمین کیسا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں۔تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔منہ