مسیحی انفاس — Page 414
۴۱۴ ١٢٨٩ شمال الطرق تفصیل یہ دعا جو سورہ فاتحہ میں ہے انجیل کی دعا سے بالکل نقیض ہے۔کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیت نہ رحیمیت نہ قدرت جزا دعا کا طریق مرید سزا۔کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔مگر سورہ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے۔اسی لئے سورہ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو۔سوسورۂ فاتحہ میں رب العالمین کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہئے کہ جو کچھ اس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے۔وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خو در تم خسروانہ سے بجا لاوے۔سو الرحمان کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔تیسر کی صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ پہنچا سکے ان کے انجام کے لئے مناسب طور پر مدد دے۔سوالرحیم کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا ہے۔چوتھی صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جزا و سزا پر قادر ہو۔تا سیاست مدنی کے کام میں خلل نہ پڑے۔سو مالک یوم الدین کے لفظ سے اس صفت کو ظاہر کر دیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سورہ موصوفہ بالا نے تمام وہ لوازم بادشاہت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت اور بادشاہی تصرفات موجود ہیں۔چنانچہ اس کی ربوبیت بھی موجود اور رحمانیت بھی موجود اور رحمیت بھی موجود اور سلسلہ امداد بھی موجود اور سلسلہ سزا بھی موجود۔غرض جو کچھ بادشاہت کے لوازم میں سے ہوتا ہے۔زمین پر سب کچھ خدا کا موجود ہے اور ایک ذرہ بھی اس کے حکم سے باہر نہیں۔ہر ایک جزو اس کے ہاتھ میں ہے۔ہر ایک رحمت اس کے ہاتھ میں ہے۔مگر انجیل یہ دعا سکھلاتی ہے کہ ابھی خدا کی بادشاہت تم میں نہیں آئی۔اس کے آنے کے لئے خدا سے دعا مانگا کرو۔تاوہ آجائے۔یعنی ابھی تک ان کا خداز مین کا مالک اور بادشاہ نہیں۔اس لئے ایسے خدا سے کیا امید ہو سکتی ہے۔سنو اور سمجھو کہ بڑی معرفت یہی ہے کہ زمین کا ذره ذرہ بھی ایسا ہی خدا کے قبضہ اقتدار میں ہے جیسا کہ آسمان کا ذرہ ذرہ خدا کی بادشاہت میں ہے۔اور جیسا کہ آسمان پر ایک عظیم الشان تجلی ہے ان پر بھی ایک عظیم انشان تجلی ہے۔۔بلکہ آسمان کی تجلی تو ایک ایمانی امر ہے۔عام انسان نہ آسمان پر