مسیحی انفاس — Page 413
۴۱۳ نہیں ہو سکتے۔پس کیونکر کہا جائے کہ جرائم پیشہ لوگ اپنی سلطنت کا جوا اپنی گردن پر نہیں رکھتے۔دیکھو اس ملک برٹش انڈیا میں چوریاں بھی ہوتی ہیں۔خون بھی ہوتے ہیں۔زنا کار اور خائن اور مرتشی وغیرہ ہر یک قسم کے جرائم پیشہ بھی پائے جاتے ہیں۔نہیں کہہ سکتے کہ اس ملک میں سرکار انگریزی کا راج نہیں۔عیسائیوں کو اس بات پر زور دینا اچھا نہیں کہ صرف آسمان میں ہی خدا کی بادشاہت ہے جو ابھی زمین پر نہیں آئی۔کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان کچھ چیز نہیں۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان کچھ چیز نہیں جس پر خدا کی بادشاہت ہو۔اور زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت آئی نہیں لو گو یا خدا کی بادشاہت کسی جگہ بھی نہیں۔ماسوا اس کے ہم خدا کی زمینی بادشاہت کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔اس کے قانون کے موافق ہماری عمریں ختم ہو جاتی ہیں اور ہماری حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور صدہا رنگ کے راحت اور رنج ہم دیکھتے ہیں۔ہزار ہالوگ خدا کے حکم سے مرتے ہیں اور ہزار ہا پیدا ہوتے ہیں۔دعائیں قبول ہوتی ہیں۔نشان ظاہر ہوتے ہیں۔زمین ہزار ہا قسم کے نباتات اور پھل اور پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے۔تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے۔بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں اور ان میں تغیر و تبدل جس سے ایک مغیر مبدل کا پتہ ملتا ہو۔کچھ محسوس نہیں ہوتی۔مگر زمین ہزار ہا تغیرات اور انقلابات اور تبدلات کا نشانہ ہو رہی ہے۔ہر روز کروڑہا انسان دنیا سے گذرتے ہیں اور کروڑہا پیدا ہوتے ہیں۔اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہو رہا ہے۔تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵۔آیت میں لکھا ہے۔مگر پھر بھی خدا کا اس کے چھڑانے پر قادر نہ ہوتا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہو سکتی ہے کہ اس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی زمانہ مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے اور ان سے نجات پائی ہے۔ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۳ تا ۳۷