مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 632

مسیحی انفاس — Page 412

میں خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔اس لئے حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے خدا کی مرضی ایسے طور سے زمین پر نافذ نہیں ہو سکی جیسا کہ آسمان پر نافذ ہے۔مگر قرآن کی تعلیم سراسر اس کے بر خلاف ہے۔۔وہ تو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کوئی چور خونی - زائی - کافر - فاسق۔سرکش۔جرائم پیشہ کسی قسم کی بدی زمین پر نہیں کر سکتا جب تک کہ آسمان پر سے اس کو اختیار نہ دیا جائے۔پس کیونکر کہا جائے کہ آسمانی بادشاہت زمین پر نہیں۔کیا کوئی مخالف قبضہ زمین پر خدا کے احکام کے جاری ہونے سے مزاحم ہے۔سبحان اللہ ایسا ہر گز نہیں۔بلکہ خدا نے خود آسمان پر فرشتوں کے لئے جدا قانون بنایا۔اور زمین پر انسانوں کے لئے جدا۔اور خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا۔بلکہ ان کی فطرت میں ہی اطاعت کا مادہ رکھ دیا ہے۔وہ مخالفت کر ہی نہیں سکتے اور سہو و نسیان ان پر وار د نہیں ہو سکتا۔لیکن انسانی فطرت کو قبول ، عدم قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے۔اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی۔بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے۔ہاں صرف قانون دو ہیں۔ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے۔اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے خدا کے قضا و قدر کے متعلق ہے۔اور وہ یہ ہے کہ آسمان سے ان کو بری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں۔تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے۔اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں۔جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں۔اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں۔کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے۔وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔دیکھو آجکل طاعون بھی بطور سزا کے زمین پر اتری ہے اور خدا کے سرکش اس سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں۔پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں۔یہ خیال مت کرو کہ اگر زمین پر خدا کی بادشاہت ہے تو پھر لوگوں سے جرائم کیوں ظہور میں آتے ہیں کیونکہ جرائم بھی خدا کے قانون قضا و قدر کے نیچے ہیں۔سو اگر چہ وہ لوگ قانون شریعت سے باہر ہو جاتے ہیں۔مگر قانون تکوین یعنی قضا و قدر سے وہ باہر ۴۱۲