مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 632

مسیحی انفاس — Page 389

۳۸۹ پھونکے گئے اور کئی لاکھ بچے قتل کئے گئے اور بڑھوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور ضعیف عورتوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا۔اور انجیل کی تعلیم میں حد سے زیادہ نرمی اور رحم اور در گذر فرض کی طرح ٹھہرائے گئے۔چنانچہ بیرونی طور پر اگر دشمن دین حملہ کریں تو انجیل کی رُو سے مقابلہ کرنا حرام ہے گو وہ ان کے روبرو ان کے قوم کے غریبوں اور ضعیفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور ان کے بچوں کو قتل کر ڈالیں اور ان کی عورتوں کو پکڑ لے جائیں اور ہر طرح سے بے حرمتی کریں اور ان کے معابد کو پھونک دیں اور ان کی کتابوں کو جلا دیں غرض کیسے ہی ان کی قوم کو تہ و بالا کر دیں مگر دشمن مذہب کے ساتھ لڑائی کا حکم نہیں۔ایسا ہی اندرونی طور پر بھی انجیل میں قوم کی باہمی حفظ حقوق کے لئے یا مجرم کو پاداش جرم کے لئے کوئی سزا اور قانون نہیں۔اور صرف رحم اور عضو اور در گذر کے پہلو ر اگر چه جین مت سے بہت کم مگر تا ہم اس قدر زور ڈال دیا گیا ہے کہ دوسرے پہلوں میں مت کی تعلیم سے کا گویا خیال ہی نہیں۔اگرچہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دینا ایک نادان کی بین اتم سر میں بڑی عمدہ تعلیم ہوگی مگر افسوس کہ ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ کیا کسی زمانہ کے لوگوں نے اس پر عمل بھی کیا۔اور اگر بفرض محال عمل کیا تو کیا یہی آبادی رہی اور لوگوں کی جان و مال اور امن میں کچھ خلل نہ ہوا۔کیا یہ تعلیم دنیا کے پیدا کرنے والے کے اس قانون قدرت کے مطابق ہے جس کی طرف انسانوں کی طبائع مختلفہ محتاج ہیں۔کیا نہیں یکھتے کہ تمام طبائع جرائم کی سزا دینے کی طرف بالطبع جھک گئیں اور ہریک سلطنت نے انسداد جرائم کے لئے یہی قانون مرتب کئے جو مجرموں کو قرار واقعی سزادی جائے اور کسی ملک کا انتظام بجز قوانین سزا کے مجر در حم سے نہ چل سکا۔آخر عیسائی مذہب نے بھی اس بر تم اور در گذر کی تعلیم سے بیزار ہو کر وہ خونریزیاں دکھلائیں کہ شاید ان کی دنیا میں نظیر نہیں ہوگی۔اور جیسے ایک پل ٹوٹ کر ارد گرد کو تر آب کر دیتا ہے ایسا ہی عیسائی قوم نے در گذر کی تعلیم کو چھوڑ کر کام دکھلائے۔سوان دونوں کتابوں کا نا تمام اور ناقص ہونا ظاہر ہے لیکن قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بقدم چلا ہے۔رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اس اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہریک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آبپاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔اور تمام قونی کی مربی ہیں نہ کسی ایک قوت کی۔اور