مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 632

مسیحی انفاس — Page 21

۲۱ حالت میں ایک طرف تو حضرت مسیح اپنے کفر کی برتیت ثابت کرنے کے لئے یوحنا باب میں اپنے تئیں خدا اطلاق پانے میں دوسروں کا ہمرنگ قرار دیں اور اپنے تئیں لا علم بھی قرار دیں کہ مجھے قیامت کی کچھ خبر نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی روانہ رکھیں کہ ان کو کوئی نیک کہے اور جابجا یہ فرماویں کہ میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔اور حواریوں کو یہ نصیحت دیں کہ پیش گوئیاں وغیرہ امور کے وہی معنے کرو جو یہودی کیا کرتے تھے اور ان کی باتوں کو سنو اور مانو اور پھر ایک طرف مسیح کے مجربات بھی دوسرے نبیوں کے معجزات سے مشابہ ہوں بلکہ ان سے کسی قدر کم ہوں بوجہ اس تالاب کے قصہ کے جو ڈاکٹر صاحب کو خوب معلوم ہو گا جس میں غسل کرنے والے اسی طرح طرح طرح کی بیماریوں سے اچھے ہو جایا کرتے تھے جیسا حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے۔اور پھر ایک طرف گھر میں ہی پھوٹ پڑی ہوئی ہو۔ایک صاحب حضرات عیسائیوں میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی تکذیب کر رہا ہے۔ادھر یہودی بھی سخت مکذب ہوں اور عقل بھی ان نا معقول خیلات کے مخالف ہو۔اور پھر وہ اخری نبی جس نے صدہا دلائل اور نشانوں سے ثابت کر دیا ہو کہ میں سچا نبی ہوں تو پھر باوجود اس قدر مخالفانہ ثبوتوں کے ایک خاص فرقہ کا خیال اور وہ بھی بے ثبوت کہ ضرور حضرت مسیح خدا ہی تھے کس کام آسکتا ہے اور کس عزت دینے کے لائق ہے اسی بنا پر میں نے کہا تھا کہ جس حالت میں اس قدر خیلے بالاتفاق آپ کے اس عقیدہ پر ہو رہے ہیں تو اب حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کے لئے آپ کو ایسا ثبوت دینا چاہئے جس کے اندر کوئی ظلمت اور تاریکی نہ ہو اور جس میں کوئی اختلاف نہ کر سکتا ہو۔" جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۷۸ تا ۱۸۲ میں نے فاضل یہودیوں سے پوچھا ہے کہ کیا تمہارے ہاں ایسے خدا کا پتہ ہے جو مریم کے پیٹ سے نکلے اور وہ یہودیوں کے ہاتھوں ماریں کھاتا پھرے۔اس پر یہودی علماء یہودیوں میں ایسے خدا نے مجھے یہی جواب دیا کہ یہ محض افتراء ہے۔توریت سے کسی ایسے خدا کا پتہ نہیں کا کوئی ذکر نہیں۔ملتا۔ہمار اوہ خدا ہے جو قرآن کریم کا خدا ہے۔یعنی جس طرح پر قرآن مجید نے خدا تعالی کی وحدت کی اطلاع دی ہے اسی طرح پر ہم توریت کی رو سے خدا تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مانتے ہیں اور کسی انسان کو خدا نہیں مان سکتے۔اور یہ تو موٹی بات ہے کہ اگر یہودیوں کے