مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 632

مسیحی انفاس — Page 369

۳۶۹ | ہی جھوٹ ہو جو عمداً یا دھوکہ کھانے سے لکھ دیا ہو۔کیونکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کی انجیلیں نہیں ہیں اور نہ ان کی تصدیق شدہ ہیں۔بلکہ حواریوں نے یا کسی اور نے اپنے خیال اور عقل کے موافق لکھا ہے۔اسی وجہ سے ان میں باہمی اختلاف بھی ہذا کہہ سکتے ہیں کہ ان خیالات میں بعض لکھنے والوں سے غلطی ہو گئی۔جیسا کہ یہ غلطی ہوئی کہ انجیل نویسوں میں سے بعض نے گمان کیا کہ گویا حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں۔ایسی غلطیاں حواریوں کی سرشت میں تھیں۔کیونکہ انجیل ہمیں خبر دیتی ہے کہ ان کی عقل باریک نہ تھی۔ان کے حالات ناقصہ کی خود حضرت مسیح گواہی دیتے ہیں کہ وہ فہم اور درائت اور عملی قوت میں بھی کمزور تھے۔بہر حال یہ سچ ہے کہ پاکوں کے دل میں شیطانی خیال مستحکم نہیں ہو سکتا۔اور اگر کوئی تیرتا ہوا سر سری وسوسہ ان کے دل کے نزدیک آبھی جائے تو جلد تروہ شیطانی خیال دور اور دفع کیا جاتا ہے اور ان که کے دامن پر کوئی داغ نہیں لگتا۔قرآن شریف میں اس قسم کے وسوسہ کو جو ایک کم رنگ اور ناپختہ خیال سے مشابہ ہوتا ہے طائف کے نام سے موسوم کیا ہے۔لغت عرب میں اس کا نام طائف اور طوف اور طیف اور طیف ہے۔اور اس وسوسہ کا دل سے نہایت ہی کم تعلق ہوتا ہے گویا نہیں ہوتا۔یا یوں کہو کہ جیسا کہ دور سے کسی درخت کا سایہ بہت ہی خفیف سا پڑتا ہے۔ایسا ہی یہ وسوسہ ہوتا ہے۔اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح علیہ السّلام کے دل میں اس قسم کے خفیف وسوسہ کے ڈالنے کا ارادہ کیا ہو۔اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو۔اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں میں ہی نہیں ہے۔بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔عن محمد بن عمر ان الصيد فى قال حدثنا الحسن بن عليل العنزي عن العباس بن الواحد عن محمد بن عمر د - عن محمد بن مناذر - عن سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن طاؤس عن البى هريرة قال جاء الشيطن الى عيسى - قال الست تزعم انك صادق قال بلى قال فاوق على هذه الشاهقة فالق نفسك منها - فقال وملك الم يقل الله يا ابن ادم لا تبانی بهلاكك فاتي افعل ما انشاء یعنی محمد بن عمران صیرفی سے روایت ہے اور انہوں نے حسن بن علیل عنزی سے