مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 632

مسیحی انفاس — Page 20

ہے خدا نہیں ہے ایک طالب حق کے لئے کافی دلیل ہے۔اگر وہ اس بات کے شائق ہوتے کہ حق کو خوانخواہ چھپایا جاوے تو پھر نبی کے آنے کا کیوں اقرار کرتے۔ماسوا ا سکے توریت کے دوسرے مقامات اور بھی اس امر کے موید اور مصدق ہیں۔چنانچہ توریت توریت نے غیر میں صاف لکھا ہے کہ تم زمین کی کسی چیز کو اور یا آسمان کی کسی چیز کو جو دیکھو تو اس کو خدا معبودوں کی پرستش مت بناؤ۔جیسا کہ خروج ۲۰ باب ۳ میں یہ الفاظ ہیں کہ تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی سے منع کیا۔چیز کی صورت جو آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا۔اور پھر لکھا ہے۔اگر تمہارے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور تمہیں نشان یا کوئی معجزہ دکھلاوے اور اس نشان یا معجزہ کے مطابق جو اس نے تمہیں دکھایا ہے بات واقعہ ہو اور تمہیں کہے کہ آؤ ہم غیر معبودوں کی جنہیں تم نے نہیں جانا پیروی کریں تو ہر گز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات پر کان مت دھر یو۔اسی طرح اور بھی توریت میں بہت سے مقامات ہیں جن کے لکھنے کی حاجت نہیں مگر سب سے بڑھ کر حضرت مسیح کا اپنا اقرار ملاحظہ کے لائق ہے وہ فرماتے ہیں سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سین وہ خداوند جو ہمار اخدا ہے ایک ہی خدا ہے۔پھر فرماتے ہیں حیات ابدی یہ ہے کہ دے تجھ کو خدا ایک ہی ہے۔اکیلا سچا خدا اور یسوع مسیح کو جسے تم نے بھیجا ہے جانیں۔یوحنا۔۱۷/۳۔اور بھیجا کا لفظ توریت کے کئی مقام میں انہیں معنوں پر بولا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو مامور کر کے اور اپنا بی ٹھہرا کر بھیجتا ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ یہ وہ بندہ بھیجا گیا ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب یہ بھیجا گیا کا لفظ بجز اس معنی کے جہاں نبی کی نسبت بولا جاتا ہے مقام متنازعہ فیہ کے ماسوا کسی اور جگہ دوسرے معنوں پر ثابت کر دیں تو شرط کے طور پر جو چاہیں ہم سے وصول کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب پر واضح رہے کہ بھیجا گیا کا لفظ اور ایسا ہی مخصوص کا لفظ انسان کے بارہ میں آیا ہے یہ سراسر محکم ہے کہ اب اس کے اور محنے کئے جاویں۔ماسوا اس کے حضرت مسیح کی الوہیت کے بارہ میں اگر حضرات عیسائی صاحبوں کا اصول ایمانیہ میں اتفاق ہوتا اور کوئی قوم اور فرقہ اس اتفاق سے باہر نہ ہوتا تو تب بھی کسی قدر ناز کرنے کی جگہ تھی مگر اب تو اتنی بات بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ یونی شیرین فرقہ لوہیت میں نہیں۔ڈاکٹر صاحب فرما دیں کہ کیا آپ کے مختلف فرقوں میں سے یونی ٹیرین کا فرقہ صبیح کا منکر ہے۔حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے۔کیا وہ فرقہ اس انجیل سے تمسک نہیں کرتا جس سے آپ کر رہے ہیں۔کیا وہ فرقہ ان پیش گوئیوں سے بے خبر ہے جن کی آپ کو خبر ہے۔پھر جس