مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 632

مسیحی انفاس — Page 346

سمسم خوشبو آتی رہی ہے۔یہ سوراخ کسی قدر کشادہ ہے اور قبر کے اندر تک پہنچی ہوئی ہے۔اس سے یقین کیا جاتا ہے کہ کسی بڑے مقصود کے لئے یہ سوراخ رکھی غالباً کتبہ کے طور پر اس میں بعض چیزیں مدفون ہوں گی۔عوام کہتے۔اس میں کوئی خزانہ ہے مگر خیال قابل اعتبار معلوم نہیں ہوتا۔ہاں چونکہ قبروں میں اس قسم کا سوراخ رکھنا کسی ملک میں رواج نہیں۔اس سے سمجھا جاتا ہے کہ اس سوراخ میں کوئی عظیم الشان بھید ہے اور صدہا سال سے برابر یہ سوراخ چلے آنا یہ اور بھی عجیب بات ہے۔اس شہر کے شیعہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے جو کسی ملک سے بطور سیاحت آیا تھا اور شہزادہ کے لقب سے موسوم تھا۔شیعوں نے مجھے ایک کتاب بھی دکھلائی جس کا نام عین الحیات ہے۔اس کتاب میں بہت سا قصہ بصفحہ ۱۱۹ ابن بابویہ اور کتاب الکمال الدین اور اتمام النعمت کے حوالہ سے لکھا ہے لیکن وہ تمام بیہودہ اور لغو قصے ہیں۔صرف اس کتاب میں اس قدر سچ بات ہے کہ صاحب کتاب قبول کرتا ہے کہ یہ نبی سیاح تھا اور شہزادہ تھا جو کشمیر میں آیا تھا۔اور اس شہزادہ نبی کے مزار کا پتہ یہ ہے کہ جب جامع مسجد سے روضہ بل یمین کے کوچہ میں آویں تو یہ مزار شریف آگے ملے گی۔اس مقبرہ کے بائیں طرف کی دیوار کے پیچھے ایک کوچہ ہے اور داہنی طرف ایک پورانی مسجد ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تبرک کے طور پر کسی پرانے زمانہ میں اس مزار شریف کے قریب مسجد بنائی گئی ہے اور اس مسجد کے ساتھ مسلمانوں کے مکانات توارد ہے۔پس یہ ثبوت ایسے نہیں ہیں کہ کوئی شخص معاندانہ تحکم سے یکدفعہ ان کو ر ڈ کر سکے بلکہ ان د یہ میں سچائی کی روشنی نہایت صفائی سے پائی جاتی ہے اور اس قدر قرائن ہیں کہ یکجائی طور پر ان کو دیکھنا اس نتیجہ تک پہنچاتا ہے کہ یہ بے بنیاد قصہ نہیں ہے۔یوز آسف کا نام عبرانی سے مشابہ ہونا اور یوز آسف کا نام نبی مشہور ہونا جو ایسا لفظ ہے کہ صرف اسرائیلی اور اسلامی انبیاء پر بولا گیا ہے اور پھر اس نبی کے ساتھ شہزادہ کا لفظ ہونا اور پھر اس نبی کی صفات حضرت مسیح علیہ السّلام سے بالکل مطابق ہونا اور اس کی تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بالکل ہمرنگ ہونا اور پھر مسلمانوں کے محلہ میں اس کا مدفون ہونا اور پھر انہیں سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئے جانا اور پھر اس زمانہ میں ایک انگریز کے ذریعہ سے بھی انجیل برامد ہونا اور اس انجیل سے صریح طور پر حضرت عیسی علیہ السّلام کا اس ملک میں آنا ثابت ہونا یہ تمام ایسے امور ہیں کہ ان کو یکجائی طور پر دیکھنے سے ضرور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بلاشبہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور اسی جگہ فوت ہوئے اور اس کے سوا اور بھی بہت سے دلائل ہیں کہ ہم انشاء اللہ ایک مستقل رسالہ میں لکھیں گے۔من المشتہر