مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 632

مسیحی انفاس — Page 344

سوم سهم سم کے یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ بزرگ جن کا نام کشمیر انوں نے یوز آسف رکھ لیا ہے یہ نبی ہیں اور نیز شہزادہ ہیں۔اس ملک میں کوئی ہندووں کا لقب ان کا مشہور نہیں ہے جیسے راجہ، اوتار یا رکھی و متنی وسدہ وغیرہ بلکہ بالاتفاق سب نبی کہتے ہیں اور نبی کا لفظ اہل اسلام اور اسرائیلیوں میں ایک مشترک لفظ ہے۔اور جبکہ اسلام میں کوئی نبی ہمارے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آیا اور نہ آسکتا تھا اس لئے کشمیر کے عام مسلمان بالاتفاق یہی کہتے ہیں کہ یہ نبی اسلام کے پہلے کا ہے۔ہاں اس نتیجہ تک وہ اب تک نہیں پہنچے کہ جبکہ نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نیتوں میں مشترک تھا یعنی مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتا تو بالضرور یہی متعین ہوا کہ وہ اسرائیلی نبی ہے کیونکہ کسی تیسری زبان نے کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔بلاشبہ اس اشتراک کا صرف دو زبانوں اور دو قوموں میں تخصیص ہونالازمی ہے مگر بوجہ ختم نبوت اسلامی قوم اس سے باہر نکل گئی۔لہذا صفائی سے یہ بات طے ہو گئی کہ یہ بنی اسرائیلی نبی ہے۔پھر اس کے بعد تو اتر تاریخی سے یہ ثابت ہو جاتا کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے پہلی دلیل پر اور بھی یقین کا رنگ چڑہاتا ہے اور زیرک دلوں کو زور کے ساتھ اس طرف لے آتا ہے کہ قبول کر کے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دیدی۔اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ ان یہودیوں کو بھی خدا تعالی کا پیغام پہنچا وہیں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے ملکوں میں آگئے تھے۔سواسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے۔ڈاکٹر بر نیر صاحب فرانسیسی اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ؟ ملک میں آگئے تھے۔اور ان کے کتابی چہرے اور لمبے کرتے اور بعض رسوم اس بات کے گواہ ہیں۔پس ا نوٹ: نبی کا لفظ صرف دو زبانوں سے مخصوص ہے اور دنیا کی کسی اور زبان میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا۔یعنی ایک تو عبرانی میں یہ لفظ نبی آتا ہے اور دوسری عربی میں۔اس کے سوا تمام دنیا کی اور زبانیں اس لفظ سے کچھ تعلق نہیں رکھتیں۔لہذا یہ لفظ جو یوز آسف پر بولا گیا کتبہ کی طرح گواہی دیتا ہے کہ شخص اسرائیلی نبی ہے یا اسلامی نہی۔مگر ختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی اور نبی نہیں آسکتا لہذا متعین ہوا کہ یہ اسرائیلی نبی ہے۔اب جو مدت بتلائی گئی ہے اس پر غور کر کے قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسی علیہ السّلام ہیں۔اور وہی شہزادہ کے نام سے پکارے گئے ہیں۔منہ