مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 632

مسیحی انفاس — Page 329

۳۲۹ کرنے کی پوری آزادی انھیں حاصل ہے۔ربی بن بین ساکن شہر ٹولیڈ و (سپین) بارھویں صدی عیسوی میں گم شدہ قبیلوں کی تلاش میں گھر سے نکلا۔اس کا بیان ہے کہ یہ یہودی لوگ چین ایران اور تبت میں آباد ہیں۔بوزی فس جس نے سنہ میں یہودیوں کی قدیم تاریخ لکھی ہے۔اپنی گیارھویں کتاب میں عز انبی کے ساتھ قید سے واپس جانے والے یہودیوں کے بیان کے ضمن میں بیان کرتا ہے کہ دس قبیلے دریائے فرات کے اُس پار ابتک آباد ہیں اور ان کی تعدادو شمار سے باہر ہے دریائے فرات سے اس پار سے مراد فارس اور مشرقی علاقے ہیں اور سینٹ حروم جو پانچویں صدی عیسوی میں گذرا ہے ہو سیع نبی کا ذکر کرتے ہوئے اس معاملہ کے ثبوت میں حاشیہ پر لکھتا ہے کہ اس دن سے دبنی اسرائیل کے دس فرقے شاہ پار تھا لینے پارس کے ماتحت ہیں اور اب تک قید سے رہا نہیں کئے گئے۔اور اسی کتاب کی جلد اول میں لکھا ہو کہ کونٹ پورن سٹڑنا اپنی کتاب کے صفحہ ۲۳۳-۲۳۴ میں تحریر کرتا ہے کہ افغان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بخت نصر نے جیکل یروشلم کی تباہی کے بعد بامیان کے علاقہ میں انہیں جلا وطن کرکے بھیج دیا۔بامیان کا علاقہ غور کے متصل اور افغانستان میں واقع ہے) اور کتاب اسے تیرے ٹو آف اے وزٹ ٹو غزنی کابل افغانستان - مصنفہ جی ٹی ویگن الیت جی امین مطبوعہ ماریہ صفحہ ۲۶ ) میں لکھا ہے کہ کتاب مجمع الانساب سے ملا خدا داد نے پڑھ کر سنایا کہ یعقوب کا بڑا بیٹ یہودا تھا اُس کا بیٹا اسرک تھا۔اُسرک کا بیٹا اکنور- النور کا بیٹا محاسب - مطالب کا فرلائی۔فرلائی کا بیٹا قیس تھا۔قیس کا بیٹا طالوت - طالوت کا ارمیا۔اور ارمیا کا بیٹا افغان تھا۔اس کی اولاد قوم افغان ہے۔اور اسی کے نام پر افغان کا نام مشہور ہوا۔افغان بخت نصر کا ہم عصر تھا اور بنی اسرائیل کہلاتا تھا اور اس کے چالیس بیٹے تھے۔اس کی ہو تیسویں پشت میں دو ہزار برس بعد وہ قیس ہوا جو محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میں تھا۔اس سے پونٹھ نسلیں ہوئیں۔