مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 632

مسیحی انفاس — Page 311

بلکہ اُن کو بُدھ قرار دے دیا۔کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں داخل ہو کہ جہاں کہیں عمدہ بات اتا ہر ہر طرح کوشش کرتا ہو کہ اس عمدہ بات کو لے لے یہانتک کہ اگر کسی مجلس میں کوئی عمدہ نکتہ کسی کے منہ سے نکلتا ہے تو دوسرا اس کو یاد رکھتا ہو۔تو پھر یہ بالکل قرین قیاس ہو کہ بدھ مذہب والوں نے انجیلوں کا سارا نقشہ اپنی کتابوں میں کھینچ دیا ہے۔مثلاً یہانتک کہ جیسے بیج نے پچالیس روزے رکھے ویسے ہی بدحہ نے بھی رکھے اور جیسا کہ مسیح شیطان سے آزمایا گیا ایسا ہی بدھ بھی آزمایا گیا۔اور جیساکہ مسیح ہے پدر تھا ویسا ہی بدھ بھی۔اور جیسا کہ مسیح نے اخلاقی تعلیم بیان کی ویسا ہی بدھ نے بھی کی اور جیسا کہ مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں ویسا ہی بدھ نے بھی کہا۔اور جیسا کہ مسیح نے اپنا نام اُستاد رکھا اور حواریوں کا نام شاگرد ایسا ہی بدھ نے رکھا۔اور جیسا کہ انجیل متی بابا آیت میں ہوکر سونا اور روپا او تانیا اپنے پاس مت رکھو یہی حکم بدھ نے اپنے شاگردوں کو دیا۔ور جیسا کہ انہی میں مجرد رہنے کی ترغیب دیگئی ہو ایسا ہی بدھ کی تعلیم میں ترغیب ہے۔اور جیسا کہ سیح کو صلیب پر کھینچنے کے بعد زلزلہ آیا ایسا ہی لکھا ہو کہ بدھ کے مرنے کے بعد زلزلہ آیا پس اس تمام مطابقت کا اصل باعث یہی ہے کہ بدھ مذہب والوں کی خوش قسمتی سے بیج ہندوستان میں آیا اور ایک زمانہ دراز تک بدھ مذہب والوں میں رہا اور اسکے سوانح اور اسکی پاک تعلیم پر اُنہوں نے خوب اطلاع پائی۔لہذا یہ ضروری امر تھا کہ بہت سا حصہ اس تعلیم اور رسوم کا اُن میں جاری ہو جاتا کیونکہ اُن کی نگاہ میں سیح عزت کی نظر سے دیکھا گیا اور بدھ قرار دیا گیا۔اس لئے اُن لوگوں نے اس کی باتوں کو اپنی کتابوں میں لکھا اور گوتم بدھ کی طرف منسوب کر دیا۔بدھ کابینہ حضرت بی کی طرح مثالوں میں اپنے شاگردوں کو سمجھانا خاصکر وہ مثالیں جو انجیل میں آچکی ہیں نہایت حیرت انگیز واقعہ ہے۔چنانچہ ایک مثال میں بدھ کہتا ہے کہ "جیسا کہ کسان بیج ہوتا ہے اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ دانہ آج بچھولے گا اور کل نکلے گا ایسا ہی مرید کا حال ہوتا ہے یعنے وہ کچھ بھی رائے ظاہر نوٹ جیسا کہ عیسائیوں میں شاہ ربانی ہے ایسا ہی بدھ مذہب والوں میں بھی ہے۔منور