مسیحی انفاس — Page 308
اپنے ارادوں کو وسوسوں کے رنگ میں حضرت مسیح کے دل میں ڈالا تھا۔مگر ان شیطانی الہامات کو حضرت مسیح کے دل نے قبول نہ کیا بلکہ مدد کی طرح اُن کو رو کیا۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس قدر مشابہت بدھ میں اور حضرت سیج ہیں کیوں پیدا ہوئی۔اس مقام میں آریہ تو کہے ہیں کہ نعوذ بالہ حضرت مسیح نے اس سفر کے وقت جبکہ ہندوستان کی طرف انہوں نے سفر کیا تھا بُدھ مذہب کی باتوں کو شنکر اور بدھ کے ایسے واقعات پر اطلاع پاکر اور پھر واپس اپنے وطن میں جا کر اسی کے موافق انجیل بنائی تھی۔اور بدھ کے اخلاق میں سے چورا کر اخلاقی تعلیم لکھی تھی اور جیسا کہ بدھ نے اپنے تئیں نور کہا اور علم کہا اور دوسرے خطاب اپنے نفس کے لئے مقرر کئے وہی تمام خطاب بسیج نے اپنی طرف منسوب کر دیئے تھے۔یہانتک کہ وہ تمام قصہ بدھ کا جس میں وہ شیطان سے آزمایا گیا اپنا قصہ قرار دیدیا لیکن یہ آریوں کی غلطی اور خیانت ہے۔یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے اور نہ اُس وقت کوئی ضرورت اس سفر کی پیش آئی تھی بلکہ یہ ضرورت اُس وقت پیش آئی جبکہ بلاد شام کے یہودیوں نے حضرت میں کو قبول نہ کیا اور انکو اپنے زعم میں صلیب دے دیا جسے خدائے تعالیٰ کی بار یک حکمت عملی نے حضرت سیح باریک نے کو بچالیا۔تب وہ اُس ملک کے یہودیوں کے ساتھ حق تبلیغ اور ہمدردی ختم کر چکے اور بباعث اُس بدی کے اُن یہودیوں کے دل ایسے سخت ہو گئے کہ وہ اس لائق نہ رہے کہ سچائی کو قبول کریں اُس وقت حضرت مسیح نے خدائے تعالیٰ سے یہ اطلاع پاکر کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے ہندوستان کی طرف آگئے ہیں اُن ملکوں کی طرف قصد کیا۔اور چونکہ ایک گروہ یہودیوں کا بدھ مذہب میں داخل ہو چکا تھا۔اسلئے ضرور تھا کہ وہ نبی صادق بدھ مذہب کے لوگوں کی طرف توجہ کرتا سو اس وقت بدھ مذاہب کے عالموں کو جو مسیحی بدھ کے منتظر تھے یہ موقع ملا کہ انہوں نے حضرت مسیح کے خطابات اور ان کی بعض اخلاقی تعلیمیں جیسا کہ یہ کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور بدی کا مقابلہ نہ کرو اورنیز ۳۰۸