مسیحی انفاس — Page 300
اور ایک عصا ہا تھ میں ہوتا تھا۔اور ہمیشہ ملک یہ ملک اور شہر بشہر پھرتے تھے۔اور جہاں رات پڑ جاتی وہیں رہ جاتے تھے۔جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے۔ایک دفعہ سیاحت کے زمانہ میں ان کے رفیقوں نے ان کیلئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بند وبست نہ ہو سکا اس لئے اسکو واپس کر دیا۔وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین ہیں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سو کوس کے فاصلہ پر تھا۔اور آپ کے ساتھ چند سواری بھی تھے۔آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا۔مگر اس شہر میں حضرت عیسی علیہ السلام اور انکی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اسے اس شہر کے حاکم نے حواریوں کو گرفتار کرلیا۔پھرحضرت علی علی اسلام کو بلایا۔آپ نے اعجازی برکت سے بعض بیماروں کو اچھا کیا۔اور اور بھی کئی معجزات دکھلائے۔اس لئے نصیبین کے ملک کا بادشاہ مع تمام شکر اور باشندوں کے آپ پر ایمان لے آیا اور نزول مائدہ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے وہ واقعہ بھی ایام سیاحت کا ہے“ یہ خلاصہ بیان تاریخ روضۃ الصفاہم۔اور اسجگہ مصنف کتاب نے بہت سے بیہودہ اور لغو اور دور از عقل منجزات بھی حضرت علی علیہ السلام کی رات سو کئے ہیں جنکو ہم افسوس کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور اپنی اس کتاب کو اُن جھوٹ اور فضول اور مبالغہ آمیز باتوں سے پاک رکھ کر صرف اصل مطلب اس سے لیتے ہیں جیسے یہ تین کلام کہ حضرت یا علی السلام ہی کرتے کرتے نصین تک ہنچ گئے تھے اونی میں مول اورشام کےدرمیان ایک ہی ہے جو انگریزی نقشوں میں سی اتے اسے لکھا ہے جب ہم ملک شام و فارس کیطرف سفر کریں تو ہاری را می نصیبین آئیگا اور بیت المقدس و تقریب اٹھے چاروکوس ہو اورپھر میں تقریبا ہم میں موصل ہو جوبیت المقدس سے پانسویل کے فاصلہ پر ہے اور وصل سے فارس کی حد صرف سومیل رہ جاتی ہو اس حسا سے نصیبین فارس کی حد سو ڈیڑھ سومیل پر ہو اور اس کی مشرقی مدافغانستان کے شہر ہرات تک ختم ہوتی ہو لینے فارس کیطرف ہرات افغانستان کی مغربی حد پر واقع ہواور اس کی مغربی حدس تقریبا و سومیل کے فاصلہ پر ہے اور اسے درہ خیبر تک قریبا پان سی کا خاصا ہیں