مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 632

مسیحی انفاس — Page 283

۲۸۳ کی موت نے اس کے کام کی and believing that he had set the صداقت پر آخری مہر لگادی ہے تو وہ by his death he then retires into پھر کسی ناقابل حصول تنہائی میں چلا 107۔tum and dieWahrheit p final seal to the truth of his work impenetrable gloo! Das Heiligh- p۔231۔(P p۔523 of the Supernatural religion) گیا۔دیکھو کتاب سوپر نیچرل ریلیجن صفحه ۵۲۳ اور یاد رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے مسئلہ کو مسلمان عیسائیوں سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اس کی موت کا بار بار ذکر ہے۔لیکن بعض نادانوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ اس آیت قرآن شریف میں یعنی وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لھم میں لفظ شہد سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی کی جگہ کسی اور کو سولی دیا گیا اور وہ خیال نہیں کرتے کہ ہر ایک شخص کو! جان پیاری ہوتی ہے۔پس اگر کوئی اور شخص حضرت عیسی کی جگہ صلیب دیا جاتا تو صلیب دینے کے وقت ضرور وہ شور مچانا کہ میں تو عیسی نہیں ہوں۔اور کئی دلائل اور کئی امتیازی اسرار پیش کر کے ضرور اپنے تئیں بچالیتانہ یہ کہ بار بار ایسے الفاظ منہ پر لاتا جن سے اس کا عیسی ہونا ثابت ہوتا۔رہا لفظ شبه لھم۔سو اس کے وہ معنی نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنے ہیں کہ موت کا وقوعہ یہودیوں پر مشتبہ کیا گیا۔وہ ایسی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حلانکہ مسیح قتل ہونے سے بچ گیا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اس آیت میں شبه لهم - کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے۔خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے دھو کا میں مخالفین کو ڈال ؟ ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شبته لهم سے خدا نے کام لیا۔تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۸