مسیحی انفاس — Page 9
اس نظارہ کو بھی دیکھ رہا ہوں جو موت کا اس صلیبی مذہب پر آنے کو ہے۔اس مذہب کی بنیاد محض لعنتی لکڑی پر ہے جس کو دیمک کھا چکی ہے اور یہ بوسیدہ لکڑی اسلام کے زبر دست دلائل کے سامنے اب گھر نہیں سکتی۔اس عمارت کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔اب وقت آتا ہے کہ یکدم یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوگی۔اور وہ اس مردہ پرستی کے مذہب سے بیزار ہو کر حقیقی مذہب اسلام کو اپنی نجات کا ذریعہ یقین کریں گے۔ملفوظات۔جلد ۸ صفحه ۱۳۶ میں تعجب کرتا ہوں کہ یہ درخت عیسائی مذہب کا کیونکر بغیر پھلوں کے قرار دیا جاتا ہے اور کیوں تسلی کی راہ اس شخص کے مقابل پر پیش نہیں کی جاتی جو پیش کر رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی عادت نشان دکھلانا نہیں ہے تو اس دین اسلام کی تائید کے لئے کیوں نشان دکھلاتا ہے۔اس لئے کیا کبھی ممکن ہے کہ ظلمت نور پر غالب آجاوے۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ عیسائی مذہب تو سچا ہو اور تائید دین اسلام کی ہو۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۸۴ عیسائیوں کا موجودہ دین و مذہب جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔اس کا کوئی بھی اس پہلو نہیں ہے جو حق کے طالب کو اس سے کچھ تسلی مل سکے۔اگر تعلیم کی طرف دیکھیں تو وہ ناقص ہے۔اور اگر ان نشانوں کو دیکھیں جو انجیل میں سچے مسیحی کی علامت ٹہرائے گئے ہیں تو کسی عیسائی میں ان کا پتہ نہیں ملتا۔اور اگر مسیح کے کام دیکھیں تو بحجر فقصتوں کہانیوں کے روئت کے طور پر کسی کا ثبوت نہیں۔اور اگر ان پیش گوئیوں کو غور سے پڑہیں جن کے رُو سے مسیح کا خدا ہونا سمجھا جاتا ہے تو کوئی بھی ایسی پیش گوئی نہیں جس سے یہ مدعا ثابت ہو سکے۔اور خود ظاہر ہے کہ اگر توریت اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں کسی خدا کے پیدا ہونے کا وعدہ دیا جاتا تو یہود اس وعدہ کے موافق ضرور یہ عقیدہ رکھتے کہ کسی وقت خدا ان کی مدد کرنے کے لئے مجسم ہو کر کسی عورت کے پیٹ میں سے پیدا ہو گا۔اور ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ یہود توریت اور عہد عتیق کے صحیفوں سے برگشتہ نہ تھے تا ایسے خدا سے منکر رہتے۔اور اگر حضرت سیح کی خدائی کو قبول نہیں کیا تھا تو کی وجہ تھی کہ اصل پیش توئی سے منکر ہو جاتے۔ان کو بہر حال یہ کہنا چاہئے تھا کہ ایسا جسمانی خدا اگر چہ اب تک نہیں آیا۔مگر ضرور آئیگا۔لیکن تم یہود کو پوچھ کر