مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 632

مسیحی انفاس — Page 251

۲۵۱ تھا۔گروه مرزندہ ہوتا توکیونکر یمن تھاکہ جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے اور اسکو روٹی کھانے کی کیا حاجت تھی اور اگر تھی تو پھر اب بھی روٹی کھانے کا محتاج ہو گا۔ناظرین کو اس دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہودیوں کی صلیب اس زمانہ کی پھانسی کی طرح ہو گی جس سے نجات پانا قریباً محال ہے کیونکہ اس زمانہ کی صلیب میں کوئی رشا گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا اور نہ تختہ پر سے گرا کر ٹکایا جاتا تھا بلکہ صرف صلیب اتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اوریہ بات کم ہوتی تھی کہ گر صلیب پر ھیچنے اور کیل ٹھونکنے کے بعد ایک دو دن تک کسی کی جان بخشی کا ارادہ ہو تو اسی قدر عذاب پر کفایت کرکے ہڈیاں توڑنے سے پہلے اُسکو زندہ آنا لیا جائے۔اور اگر ما ناہیں منظور ہوتا تھا تو کم سے کم تین دن تک صلیب پر کھینچا ہٹوا ر ہنے دیتے تھے اور پانی اور روٹی نزدیک نہ آنے دیتے تھے اور اسی طرح دھوپ میں تین دن یا اس سے زیادہ چھوڑ دیتے تھے اور پھر اس کے بعد اس کی ہڈیاں توڑتے تھے اور پھر آخر ان تمام عذابوں کے بعد وہ مر جاتا تھا۔لیکن خدا تعالے کے فضل و کرم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اس درجہ کے عذاب سے بچا لیا جس سے زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔انجیلوں کو ذرہ غور کی نظر سے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت سیح علیہ السلام نہ تین دن تک صلیب پر رہے اور نہ تین دن کی بھوک اور پیاس اٹھائی اور نہ اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ قریب دو گھنٹہ تک صلیب پر رہے اور خدا کے رحم اور فضل نے انکے لئے یہ تقریب قائم کر دی کہ دن کےاخر حصے میں صلیب دینے کی تجویز ہوئی اور وہ جمعہ دن دینے وہ کا دن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید فسح تھی اور یہودیوں کے لئے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو بت یا سبت کی رات میں صلیب پہ رہنے دیں۔اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم سمجھی جاتی تھی۔پس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جو زمینی اسباب سے پیدا ہوئی۔اور دوسری طرف آسمانی اسباب خدا تعالے کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا