مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 632

مسیحی انفاس — Page 250

کتاب ہے اور اسی زمانہ کی ہے جبکہ دوسری اپیلیں لکھی گئیں۔کیا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ اس پورانی اور دیر بینہ کتاب کو عہد قدیم کی ایک تاریخی کتاب سمجھ لیں اور تاریخی کتابوں کے مرتبہ پر رکھ کہ اس سے فائدہ اُٹھاویں؟ اور کیا کم سے کم اس کتاب کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مسیح علیہ السلام کے صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوگئے۔پھر ماسوا اس کے جبکہ خود ان چار انجیلوں میں ایسے استعارات موجود ہیں کہ ایک مردہ کو کہدیا ہے کہ یہ ھوتا ہے مرا نہیں تو اس حالت میں اگر غشی کی حالت میں مروہ کا لفظ بولا یا تو کیا یہ یہی ہے۔ہم لکھ چکے ہیں۔کہ نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں میسیج نے اپنی قبر میں رہنے کے تین دن کو یونس کے تین دنوں سے مشابہت دی ہے۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ بونس تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا۔ایسا ہی مسیح بھی تین دن قبر میں زندہ رہا۔اور یہودیوں میں اُس وقت کی قبریں اس زمانہ کی قبروں کے مشابہ نہ تھیں بلکہ وہ ایک کو ٹھے کی طرح اندر سے بہت فراخ ہوتی تھیں۔اور ایک طرف کھڑکی ہوتی تھی جس کو ایک بڑے پتھر سے ڈھانکا ہوا ہوتا تھا۔اور عنقریب ہم اپنے موقع پر ثابت کرینگے کہ عیسی علیہ السلام کی قبرو حال میں سری نگر کشمیر میں ثابت ہوئی ہے وہ بعینہ اسی طرز کی قبر ہے جیسا کہ یہ قبرتھی ہیں میں حضرت مسیح خشی کی حالت میں رکھے گئے۔غرض یہ آیت جس کو ابھی ہم نے لکھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میسج قبر سے نکل کر گلیل کی طرف گیا۔اور مرقس کی انجیل میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے نکل کر جلیل کی سڑک پر جاتا ہو؟ دکھائی دیا اور آخر ان یاران واریوں کو مل جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے اور اپنے ہاتھ اور پاؤں جوز نمی تھے دکھائے اور انہوں نے مان کیا کہ شاید یہ روح ہے۔تب اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ اور دیکھو کیونکہ زورح کو جسم اور بڑی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور ان سے ایک چھوٹی ہوئی چھلی کاٹکڑا اور شہد کا ایک چھپا لیا اور ان کے سامنے کھا یا۔دیکھو مرقس بابا آیت ۱۴۔اور لوق باب ۲۴- آیت ۳۹ - اور ۴۰۔اور اہ اور ۲۲- ان آیات سے یقینا معلوم ہوتا ہو کہ مسیح ہرگز ۲۵۰